قاسم سیمانی موت کے بعد اٹلی مین نمودار۔۔۔مگر کیسے؟؟؟

ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اپنے چہلم کے موقع پر سات سمندر پار یورپی ملک اٹلی میں نمودار ہوئے ہیں۔ مگر کیسے؟ در حقیقت اٹلی کے مختلف شہروں میں شامی صدر بشارالاسد کے حامی ایک گروپ نے قاسم سلیمانی کی تصاویر والے پوسٹر آویزاں کردیے ہیں جن میں انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ یہ گروپ یورپ میں ’’شام یک جہتی محاذ‘‘ کی ایک شاخ ہے۔

اس گروپ نے اٹلی کے دارالحکومت روم اور میلان سمیت مختلف شہروں میں پوسٹر آویزاں کیے ہیں۔ان میں ایک میں لکھا ہے:’’جنت کی ایک اور قسم ہے۔کسی کے مادروطن کے لیے میدان جنگ۔‘‘اس کے ساتھ لکھا ہے:’’قاسم سلیمانی کے اعزاز میں‘‘۔

اٹلی کی اس مہم نے فیس بُک پر اپنے صفحہ پر لکھا ہے:’’اس کا مقصد اس شخص کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے جس نے قوموں کی آزادی اور خود مختاری کے لیے عزم اور لگن کا مظاہرہ کیا اور دنیا کے لاکھوں آزاد مردوخواتین کو متاثر کیا ہے۔‘‘

یاد رہے کہ قاسم سلیمانی اور عراق کی شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس تین جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکہ کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کی ہلاکت کے ردعمل میں ایران نے عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر میزائل داغے تھے جس سے دونوں ملکوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا تھا اوران کے درمیان محدود پیمانے پر جنگ کے امکانات پیدا ہوگئے تھے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے بجائے مزید اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

خیال رہے کہ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے قاسم سلیمانی کو 603 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔ان کے بہ قول ایرانی کمانڈر اس کے علاوہ ہزاروں امریکی فوجیوں کو زخمی کرنے کے بھی ذمے دار تھے۔مائیک پینس نے چار جنوری کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’’ شام میں قاسم سلیمانی نے ایک قاتل نظام کی حمایت جاری رکھی تھی۔ صدر بشارالاسد کی شامی عوام کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں میں مدد ومعاونت کی تھی۔‘‘

واضح رہے کہ امریکہ کے محکمہ خزانہ نے 2011ء میں شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں قاسم سلیمانی کے خلاف پابندیاں عاید کردی تھیں اور کہا تھا کہ ’’ان کے زیر قیادت سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس نے شام کی نظامت عامہ برائے سراغرسانی (جی آئی ڈی) کی مدد کی تھی۔‘‘

Care to Share?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

1 × 2 =