کورونا وائرس کے بحران کے باوجود شمالی کوریا نے بیلسٹک ميزائل’غير ضروری‘تجربہ کر ڈالا

کورونا وائرس کے بحران , جوہری مذاکرات کی تعطلی اور امريکی پابنديوں کے بوجھ تلے دبے شمالی کوريا نے بيلسٹک ميزائلوں کے تازہ ميزائل تجربات کيے ہيں ۔ جنوبی کوريائی جوائنٹ چيفس آف اسٹاف کے مطابق ہفتہ اکيس مارچ کے صبح مقامی وقت کے مطابق 06:45 اور 06:50 منٹ پر شمالی کوريا کے مغربی حصے سے دو ميزائل داغے گئے جو پچاس کلوميٹر کی بلندی پر اور چار سو سے زائد کلوميٹر کا فاصلہ طے کر کے جنوبی کوريا کے مشرقی سمندر ميں گرے۔ جاپان کی وزارت دفاع نے بھی تصديق کی ہے کہ دو ميزائل اس کے اقتصادی زون کی حدود کے قريب گرے ہیں۔

یاد رہے کہ پچھلے سال کے اوائل ميں امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوريائی رہنما کم جونگ ان کے درميان ہونے والی دوسری ملاقات کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابين مذاکرات کا عمل معطل ہے۔ پيونگ يانگ نے اس ملاقات ميں اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کی جزوی بندش کے بدلے بيشتر امريکی پابنديوں کے خاتمے کا مطالبہ کيا تھا جسے واشنگٹن نے مسترد کر ديا تھا۔ اس پيش رفت کے بعد پيونگ يانگ نے سترہ ماہ کے وقفے کے بعد بيلسٹک ميزائلوں کے تجربات کا سلسلہ بحال کر ديا اور صرف پچھلے ہی سال ميں تيرہ تجربات کر ڈالے۔ گزشتہ برس نومبر سے لے کر رواں سال مارچ تک تجربات ميں پھر سے وقفہ ديکھا گيا، جس کے بارے ميں ماہرين کی رائے يہ ہے کہ ایسا ممکنہ طور پر خطے ميں کورونا وائرس کی وباء کے پھيلاؤ کے تناظر ميں کیا گيا۔ مارچ ميں اس سے قبل بھی شمالی کوريا نے اسی طرز کے دو مختلف ميزائل تجربے کيے۔

ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کوريا نے ان تجربات کو ’انتہائی غير ضروری‘ قرار ديا ہے۔ ہفتے کے روز کيے گئے تازہ تجربات کے بعد اتحادی ممالک جنوبی کوريا اور امريکہ نے کہا ہے کہ صورتحال کا جائزہ ليا جا رہا ہے۔ جنوبی کوريا کی فوج نے کورونا وائرس کے سبب عالمی سطح پر جاری بحران کے تناظر ميں روايتی حريف ملک پر ايسے تجربات اور سرگرمياں فوری طور پر ترک کرنے کا مطالبہ کيا ہے۔ سيول نے تازہ تجربے کو ‘انتہائی غير ضروری‘ بھی قرار ديا۔

يہ امر اہم ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت پيونگ يانگ کی جانب سے جوہری اور بيلسٹک ميزائل کےجربات پر پابندی عائد ہے۔

ماہرين کے مطابق شمالی کوريا يہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمگير وباء کے باوجود اس کا حوصلہ کمزور نہيں پڑا ہے۔ ہفتے کی صبح ہی يہ اعلان بھی کيا گيا کہ اپريل ميں شمالی کوريائی سپريم پيپلز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو گا، جس ميں سات سو ارکان کی شرکت متوقع ہے۔ شمالی کوريا مانيٹرنگ ويب سائٹ اين کے نيوز سے وابستہ ريچل منيونگ لی کے مطابق اگر يہ سمٹ واقعی منعقد ہو جاتی ہے، تو يہ اس بات کی نشاندہی کرے گی کہ پيونگ يانگ حکام کورونا وائرس سے نمٹنے ميں اپنی مبینہ کاميابی ثابت کرنا چاہتے ہيں۔

Care to Share?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

seventeen − 12 =