جمعہ, ستمبر 18 Live
Shadow

بلاگ

کشمیر میں اردو کا مستقبل

کشمیر میں اردو کا مستقبل

بلاگ, پاکستان, علاقائی تہذیبیں
اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو بزور طاقت ختم کرکے خطے کے مسلم تشخص کو ببانگ دہل ختم کرنے کا آغاز کر دیا۔ اس میں ریاست میں اردو کی مرکزی حیثیت کو ختم کرنا اور کشمیری زبان کے رسم الخط کو بدل دینا بھی شامل ہے۔اردو کے بارے میں مودی سرکار کے مستقبل کے پلان کا اندازہ صرف دس دن بعد اس وقت ہوا جب بھارت کے یوم آزادی 15 اگست کی سرکاری تقریب میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے اپنا خطاب شدھ ہندی میں کیا جو محصور کشمیریوں کو سرکاری ٹیلیوژن کی وساطت سے دیکھنے کو ملا۔مجھے نہیں معلوم کہ اس پر کسی جانب سے کوئی تبصرہ بھی ہوا یا نہیں کیونکہ اس وقت ہم سب سخت ترین محاصرے میں اور بیرونی دنیا سے مکمل طور پرکٹے ہوئے تھے۔ مگر گورنر صاحب کے خطاب کے بعد ہمیں مستقبل قریب کی خوفناک صورتحال کا بخوبی ادراک ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے کشمیر میں گورنر راج کے کئی ادوار میں سرکاری تقریبات میں تقریریں ...
صومالیہ کی مسجد قبلتین کے آثار بھی ناپید ہونے کے قریب

صومالیہ کی مسجد قبلتین کے آثار بھی ناپید ہونے کے قریب

آج روس خاص, بلاگ
دنیا بھر کے مسلمان شاید صرف ایک مسجد قبلتین (دو قبلے والی مسجد) کو ہی جانتے ہوں، جو سعودی عرب کے شہر مدینہ المنورہ میں ہے۔ تاہم مشرقی افریقی ملک صومالیہ میں بھی دو محرابوں والی ایک مسجد کے کچھ اثار موجود ہے، جس کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ بھی مسجد قبلتین تھی۔مسجد قبلتین، صومالیہروایت کے مطابق صومالیہ کی مسجد قبلتین ان صحابیوں کی تعیر کردہ تھی جنہیں کفار مکہ کے مظالم سے بچنے کے لیے حضرت محمد ﷺ نے حبشہ کی جانب ہجرت کر جانے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت مسلمان مسجد اقصیٰ، بیت المقدس کے رخ نماز ادا کرتے تھے تاہم بعد میں حکم ربی کے تحت قبلہ مکہ المکرمہ، میں خانہ کعبہ کے رخ کر دیا گیا۔ یوں صومالیہ کے شہر ژیلا کی مسجد کا قبلہ بھی تبدیل ہوا اور اس مسجد کو بھی قبلتین کا نایاب نام مل گیا۔ یاد رہے کہ اس مسجد کو افریقہ کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔مسجد قبلتین کے آثار، صومالیہ ...
ہمارے بچے فقط ’نوکر بننے‘ کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں

ہمارے بچے فقط ’نوکر بننے‘ کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں

بلاگ
مشہور کہاوت ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ انیٹ لارو اپنی تحقیق میں اس بات کو مزید تقویت دیتی نظر آتی ہیں۔شمولیتی کردار سازی ان کا متعارف کردہ ایک پرورش کا انداز ہے، جس میں والدین اپنے بچوں میں موجود صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے مختلف قسم کی منظم سرگرمیاں ان کی زندگی میں شامل کرتے ہیں۔ ہمارے دیسی اندازِ پرورش میں والدین انیٹ لارو کی تھیوری کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے اور بچے کی صلاحیتوں سے بھی قطع نظر اپنی خواہشات کے تناظر میں بچے کے کیرئیر کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس کی ذہن سازی شروع کر دیتے ہیں۔ میرا بیٹا تو بڑا ہوکے ڈاکٹر ہی بنے گا اس کے علاوہ انجینئر یا وڈا افسر بننے کی خواہش بھی ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی پچھلی کئی نسلوں نے تعلیم کے حصول کا واحد مقصد کسی کا نوکر بننے کی صلاحیت حاصل کرنا طے کر لیا ہے۔ اس صورت حال میں پرورش پانے والا بچہ ذہنی طور پر اپنے تمام معاشی مسا...