بدھ, اکتوبر 21 Live
Shadow

معاون مواد/مہمان تحریریں

قاسیم سلیمانی کا قتل: وہ مشورے جن پر ٹرمپ نے عمل نہیں کیا

قاسیم سلیمانی کا قتل: وہ مشورے جن پر ٹرمپ نے عمل نہیں کیا

معاون مواد/مہمان تحریریں
واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر باب ووڈورڈ نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ رپبلکن سینیٹر لنزی گراہم نے امریکی صدر کو اس فیصلے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا نتیجہ 'ایک مکمل جنگ' کی صورت میں نکل سکتا ہے۔کوئی دوسرا صحافی تحقیقی صحافت کرنے والے امریکی صحافی باب وڈورڈ کی طرح دنیا کی سانس نہیں روک سکتا۔ جب کہ ہر کوئی 'ریج'کے عنوان سے ان کی نئی کتاب کے منظرعام پر آنے کے انتظار میں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں اس کتاب کے کچھ حصے انٹرنیٹ پر پہلے ہی شائع کردیے گئے ہیں۔باب وڈورڈ 1972 میں 29 سال کے تھے اور وہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ منسلک تھے۔ ان کے ایک کام نے انہیں عالمی شہرت اور اہمیت دی۔ وہ واٹرگیٹ سکینڈل کو منظرعام پر لائے  جس پر بالآخر امریکی صدر رچرڈنکسن کو استعفیٰ دینا پڑا۔امریکی تاریخ میں پہلی بار وائٹ ہاؤس کے سربراہ مستعفی ہوئے، ایسا اس کے بعد...
قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ

قائداعظم، جگن ناتھ آزاد اور قومی ترانہ

معاون مواد/مہمان تحریریں
سستر سال کا یہ طویل قامت، دھان پان شخص، ایک فرد نہیں ایک ادارہ ہے۔ ایک ریسرچ سنٹر ہے، ایک لشکر ہے۔ادارہ! کیونکہ تن تنہا اس نے اتنا کام کیا جتنا بڑے بڑے ادارے موٹی موٹی گرانٹس سے سرانجام دیتے ہیں۔ ریسرچ سنٹر! اس لیے کہ قائد اعظمؒ اور پاکستان پر جہاں بھی، جتنا کچھ بھی‘ لکھا گیا ہے یا کہا گیا ہے اسے اُس کی خبر ہے۔ اسّی‘ نوّے سال پہلے کے اخبارات ہوں یا دنیا کے کسی کونے میں قائد اعظمؒ یا قائدؒ کی جدوجہد کے متعلق کوئی کتاب، کوئی جریدہ یا کوئی دستاویز ہو، یہ 77 سالہ طویل قامت شخص اس سے آگاہ ہوتا ہے۔ لشکر! اس لیے کہ وہ ایک اکیلا ہے مگر پورے لشکر کا مقابلہ لشکر کی طرح کرتا ہے۔ قلم اس کی شمشیر ہے۔ تحقیق اس کا نیزہ ہے۔ ریسرچ میں دیانت اس کی ڈھال ہے۔ قائد اعظمؒ سے محبت وہ جذبہ ہے جس سے مسلح ہو کر وہ ہر اُس دشمن، ہر اُس بد اندیش، ہر اُس فتنہ پرور اور ہر اُس عفریت کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہو جاتا ہے ج...
فرقہ واریت کی نئی لہر

فرقہ واریت کی نئی لہر

معاون مواد/مہمان تحریریں
ہمارے قومی افق پر فرقہ واریت کے بادل ایک بار پھر منڈلانے لگے ہیں۔ خدا خیر کرے!فرقہ واریت کی اساس، مذہب اور سیاست کا غیر فطری ملن ہے۔ تاریخ گواہ ہے اورعصرِ حاضر بھی۔ مسلم تاریخ میں فرقہ واریت کا پہلا ظہور اُس وقت ہوا جب ایک سیاسی واقعہ کی مذہبی تعبیر کی گئی۔ آج بھی اگر پاکستانی معاشرہ مشرقِ وسطیٰ میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں سے لاتعلق ہو جائے تو ہم اس ماضی کی طرف لوٹ سکتے ہیں جس کا یہاں حسرت کے ساتھ ذکر ہوتا ہے۔ مذہب اور سیاست کا ایک ملن فطری ہے۔ اس سے صرفِ نظر بھی تباہ کن ہے۔ مذہب انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بناتا ہے۔ اس کو صبح شام تذکیر کرتا ہے کہ وہ اصلاً ایک اخلاقی وجود ہے۔ اگر ایک فرد سیاست کو اپنا میدانِ عمل بناتا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ سیاست کا ماحول پاکیزہ ہو۔ اس پاکیزگی کی بنا خارج میں نہیں، ایک سیاست دان کے اخلاقی وجود میں ہے۔ہم نے مذہب و سیاست کی یکجائی کا مط...
عالمِ اسلام کے خلاف روا رَکھا جانے والا ظلم

عالمِ اسلام کے خلاف روا رَکھا جانے والا ظلم

معاون مواد/مہمان تحریریں
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ تاریخی واقعات کی ہماہمی اور تواتر میں کچھ ایسے الفاظ اُن اقوام کے زبان و اَدب کا لاشعوری طور پر حصّہ بن جاتے ہیں جو اُن کے خلاف ایک منصوبے کے تحت وضع کیے گئے تھے۔ اِس کی واضح ترین مثال’ ’بربریت‘‘ کا لفظ ہے جو ہمارے ہاں درندگی اور بہیمیت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آج کل اخبارات و جرائد اِس لفظ سے بھرے ہوتے ہیں۔ میں جس وقت بھی لفظ ’’بربریت‘‘ سنتا یا پڑھتا ہوں، تو مجھے گہرا ملال ہوتا ہے اور میرا ذہن اُن بربر قبائل کی طرف جاتا ہے جو بڑے بہادر اَور جنگجو تھے اور یورپ کی سرزمین پر مسلم ہسپانیہ کی سلطنت کے معمار تھے۔ میرے اندر جستجو پیدا ہوئی کہ اِس لفظ کے ماخذ اور تاریخی پس منظر کا سراغ لگایا جائے۔میں نے پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری سے رابطہ قائم کیا جو عربی ادب کے علاوہ یورپ کی مختلف زبانوں کے مزاج کا گہرا علم رکھتے ہیں۔ جناب سجاد میر سے بھی گفتگ...
سعودی عرب اور پاکستان مسلم اتحاد کے لیے مل کر کام کریں

سعودی عرب اور پاکستان مسلم اتحاد کے لیے مل کر کام کریں

پاکستان, معاون مواد/مہمان تحریریں
مہمان تحریر - ڈاکٹر علی عواد العسیری -سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات سے متعلق ذرائع ابلاغ میں ہونے والی قیاس آرائیوں کو پاکستانی قیادت نے انتہائی سلیقے سے دو ٹوک انداز میں مسترد کیا ہے۔اس ضمن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے متنازعہ بیان کی وضاحت، وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس وضاحت کی توثیق اور بعد ازاں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے فوجی مقاصد کی خاطر کیے گئے دورہ ریاض نے دونوں ملکوں  کے عوام کے درمیان غیر معمولی قریبی تعلقات کو مزید مضبوط بنا کر ثابت کیا ہے یہ تعلقات وقتی جوار بھاٹے کے بعد جلد اپنی اصلی حالت میں واپس آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تاہم یہ امر واضح ہے کہ دشمن قوتوں نے ایک منظم طریقے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی۔اس کا آغاز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اسلامی تعاون کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے کشمیر پر ک...
عمر بن عبدالعزیز کے ڈھائی سال اور آج کے ڈھائی سال

عمر بن عبدالعزیز کے ڈھائی سال اور آج کے ڈھائی سال

پاکستان, معاون مواد/مہمان تحریریں
مہمان تحریر - عبد القادر حسن -جب وہ حکمران بنا تو سب سے پہلے اس نے لوگوں سے کہا کہ میری مرضی کے بغیر مجھے حکمران نامزد کیا گیا ہے، اب جب کہ مجھے نامزد کر دیا گیا ہے تو آپ کی مرضی ہے کہ میں یہاں رہوں یا نہ رہوں ، جب اطمینان ہو گیا کہ لوگ اسے چاہتے ہیں تو پھراس نے کام کا آغاز کیا اور سب سے پہلے اپنی ذات سے شروع کیا۔وہ ایک شہزادہ تھا، دن میں کئی بار لباس تبدیل کرتا تھا اور جب اس لباس پر لوگوں کی نظر پڑ جاتی تھی تو اسے یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیے اتار دیتا تھا کہ لباس دکھانے کے لیے ہوتا ہے اور جب لوگوں نے دیکھ لیا ہے تو اسے بدل لینا چاہیے۔ خوشبوؤں میں بسا رہتا تھا ، کئی برس تک مصر کا گورنر رہا ، مدینہ میں بھی اسی عہدے پر کام کیا ، اپنی چچا زاد فاطمہ سے محبت کی شادی کی اور اپنی زندگی وقت کے عیش و عشرت کے سامان سے سجا لی لیکن پھر یوں ہوا کہ وہ پوری سلطنت کا مالک بنا دیا گیا اور اس کے بعد ...
اساتذہ کے تحقیقی مقالے تعلیم کو تباہ کر رہے ہیں

اساتذہ کے تحقیقی مقالے تعلیم کو تباہ کر رہے ہیں

تعلیم, معاون مواد/مہمان تحریریں
اے وسیم خٹک - مہمان تحریر -آپ جب بھی کسی یونیورسٹی میں ملازمت کے لیے انٹرویو دینے آتے ہیں تو اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا آپ کے تحقیقی مقالے ہیں، اگر ہاں میں جواب دیا جاتا ہے تو پھر ایک دوسری جانب سے سوال اچھال دیا جاتا ہے کہ کیا وہ کسی اچھے ایمپیکٹ فیکٹر والے جرنل میں چھپے ہیں یا ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق شدہ ہیں؟اگر آپ کا جواب نفی میں آیا تو آپ کو مشکوک نظروں سے دیکھا جائے گا اور آپ کو محسوس ہو گا کہ جیسے آپ دنیا کے نالائق ترین انسان ہیں۔ آپ سر جھکائے ہوئے کسی شکست خوردہ سپاہی کی طرح انٹرویو کے کمرے سے باہر نکلیں گے۔موجودہ دور میں قابلیت کا معیار اچھا پڑھانا نہیں بلکہ زیادہ تحقیقی مقالے ہیں، جن کی دوڑ میں پاکستان کے تمام پروفیسر لگے ہوئے ہیں۔ وہ اب پڑھانے پر اتنی توجہ نہیں دیتے بلکہ ہر وقت تحقیقی مقالے لکھنے اور اسے چھپوانے میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔ پھر بھی ...
عمران خان آئینی مدت پورا کرنے والے  پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہوں گے: امریکی جریدہ

عمران خان آئینی مدت پورا کرنے والے پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہوں گے: امریکی جریدہ

پاکستان, عالمی, معاون مواد/مہمان تحریریں
معروف امریکی جریدے فارن پالیسی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی آئینی مدت ملازمت کو پورا کرنے والے پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہوں گے۔ جریدے نے خصوصی تحریر میں اب تک مختلف پاکستانی اور عالمی شہرت یافتہ تجزیہ کاروں کی جانب سے عمران حکومت کی ناقص انتظامی کارکردگی اور یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے اسکینڈلوں کی بنیاد پر کی جانے والی پیش گوئیوں کے ناکام ہونے کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان پاکستان کے قیام کے 73 سال بعد پہلے وزیراعظم ہوں گے جو اپنی آئینی مدت کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔تحریر میں خصوصی طور پر معروف پاکستانی صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے کالم "ان اور آؤٹ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماضی میں پاکستانی سیاست پر متعدد درست تجزیے کرنے والے سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا تھا کہ جون 2020 تک اگر عمران حکومت معاملات کو سنبھالنے میں ناکام رہی تو انکی حکومت گڑ سکتی ہے،...
شہر بچا سکتی ہیں با اختیار شہری حکومتیں

شہر بچا سکتی ہیں با اختیار شہری حکومتیں

معاون مواد/مہمان تحریریں
مہمان تحریر - محمود شام -کاہے کی اکیسویں صدی؟ ان ساری خود کار مشینوں کا کیا فائدہ۔کراچی سے منتخب ایم این اے، اب صدر مملکت کے پاس ایسا ریموٹ بھی نہ ہو جس کا وہ بٹن ایوان صدر میں بیٹھے بیٹھے دبائیں اور کراچی سے بارش کا پورا پانی سمندر میں چلاجائے۔ایک ریموٹ گورنر بہادر سندھ کے ہاتھ میں ہو، بٹن دباتے ہی گجر نالہ کناروں سے باہر بہنا بند کردےاورایک ریموٹ منتخب وزیر اعلیٰ کی انگلیاں محسوس کرتے ہی ملیر ندی کو اپنی حد میں رہنے پر مجبور کردے۔ایسا ہی ایک آلہ سعید غنی کو میسر ہو جس سے شارع فیصل پلک جھپکتے بے آب ہوجائے۔سید ناصر حسین شاہ بھی ایسے ہی ریموٹ سے کھیل رہے ہوں اور کھیل ہی کھیل میں سکھر شہر سے سارا پانی شرافت سے دریائے سندھ کا رخ کر لے ۔کراچی جو اسوقت ڈوب رہا ہے اس ریاست کو 2000سے مسلسل سربراہ فراہم کر رہا ہے۔ مشرف، زرداری،ممنون اور علوی۔20سال میں کسی نے بھی اپنے کراچی کو بار...
ففتھ جنریشن وار اور پاکستانی میڈیا کا المیہ

ففتھ جنریشن وار اور پاکستانی میڈیا کا المیہ

معاون مواد/مہمان تحریریں
مہمان تحریر - سلیم صافی -ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح اگرچہ مغربی ماہرین حرب نے ایجاد کی تھی لیکن وہاں یہ اصطلاح زیادہ تر سائبر وار کے لیے استعمال ہوتی ہے،گزشتہ تین چار سال کے دوران اگر کسی ملک میں اس اصطلاح کا سب سے زیادہ تذکرہ ہوا تو وہ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان چلانے والوں کو یقین ہے کہ اس وقت پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار کے تحت پوری قوت کے ساتھ حملہ کیا گیا ہے۔ یہ تشویش یوں بجا ہوسکتی ہے کہ جن ممالک میں نسلی، علاقائی، مذہبی، فرقہ وارانہ ، سماجی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر فالٹ لائنز موجود ہوں تو اس کے دشمن روایتی جنگ کی بجائے پروپیگنڈے کی جنگ کے آپشن کو استعمال کرتے ہیں اوربدقسمتی سے پاکستان ان فالٹ لائنز کے حوالے سے خودکفیل ہے۔ امریکی میجر شینن بیبی کا کہنا ہے کہ ففتھ جنریشن وار کا سب سے بڑا عامل محرومی ہے اور ماشاء اللہ پاکستان میں ہر طرف محرومیاں ہی محرومیاں ...