بدھ, April 21 Live
Shadow

خاندان و معاشرہ

برطانیہ میں بے گھر افراد کی شرح موت میں 1/3 اضافہ، سماجی حلقوں کا شدید غم و غصے کا اظہار، حکومت پر اقدام کے لیے دباؤ، مہم تیز

برطانیہ میں بے گھر افراد کی شرح موت میں 1/3 اضافہ، سماجی حلقوں کا شدید غم و غصے کا اظہار، حکومت پر اقدام کے لیے دباؤ، مہم تیز

خاندان و معاشرہ
برطانیہ میں گزشتہ سال 1000 بے گھر افراد کی سڑک پر موت ہو گئی تھی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بے گھر افراد کی شرح موت میں ایک سال میں 37 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بظاہر وجہ کورونا وباء رہی تاہم سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل وباء کے دوران زندگی کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یہ افراد حالات کا مقابلہ نہ کر سکے۔ شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019 میں برطانیہ کی تمام 4 اقوام میں مجموعی طور پر 710 بے گھر افراد کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ 2020 میں یہ تعداد بڑھ کر 976 سے بھی زیادہ ہو گئی۔حکومت نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ وباء کے دوران 15000 سے زائد بے گھر افراد کو ہاسٹلوں میں رہائش دی گئی، اور بے گھر افراد کی شرح موت میں اضافے کی وجہ رہائش کی سہولت سے زیادہ انکا رہن سہن تھا، حکومتی جواز ہے کہ بے گھر افراد کی شرح موت میں اضافے کی وجہ شراب نوشی اور دیگر نشہ آور ادویات کا بے جا استعمال ہے، جبکہ 1...
بچوں میں ذہانت ماں سے منتقل ہوتی ہے: تحقیق

بچوں میں ذہانت ماں سے منتقل ہوتی ہے: تحقیق

خاندان و معاشرہ
ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بچوں کی ذہانت کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کی والدہ کتنی ذہین ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ ذہانت کے جین کروموسوم ایکس میں واقع ہوتے ہیں، اور خواتین میں 2 ایکس کروموسوم موجود ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بچوں میں ماں کی جانب سے ذہانت کی منتقلی کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔اس کے برعکس مردوں میں صرف ایک ایکس کروموسوم ہوتا ہے، لہٰذا والد سے ذہانت کی منتقلی کا امکان نسبتاً کم ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ باپ کے ذہانت کے جینز غیر فعال ہو جاتے ہیں۔جبکہ جینیاتی عوامل کے علاوہ بھی دیکھا جائے تو بچوں کا بچپن زیادہ تر ماں کے ساتھ گزرتا ہے۔ ایسے میں ماں کی ذہانت، عادات و فطرت بچوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ...
خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی  پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خواتین کا جدیدیت سے متاثر رہن سہن بچوں کی پیدائش میں بڑی رکاوٹ قرار: انسانی آبادی کو خطرات لاحق

خاندان و معاشرہ, نظامت
محققین کے مطابق سن 2064 کے بعد دنیا کی آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی تاہم عالمی شرحِ تولید میں ہونے والی اس ’حیرت انگیز‘ کمی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دنیا پوری طرح سے تیار نہیں ہے۔تحقیق کے مطابق اگر موجودہ سیاسی نظام ہی جاری رہا تو اس صدی کے اختتام تک ہر ملک کی آبادی میں کمی واقع ہو گی اور 23 ممالک کی آبادی، جن میں سپین اور جاپان بھی شامل ہیں، سنہ 2100 تک آدھی رہ جائے گی۔ جسکا بلاواسطہ مطلب یہ بھی ہے کہ عمر رسیدہ افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائے گا اور بہت سے شہری 80 برس یا اس سے زیادہ عمر کے ہوں گے۔ماہرین کے مطابق اس کا سبب کچھ اور نہیں بلکہ عورتوں کی شرح تولید میں کمی یعنی بچوں کو نہ پیدا کرنے کے رحجان کا پروان چڑھنا ہے۔ اگر ایک عورت کے بچے جننے کی شرح 2.1 سے کم ہو جائے تو آبادی میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔سنہ 1950 میں ایک عورت زندگی میں اوسطاً 4.7 بچوں کو جنم دی...