جمعہ, ستمبر 18 Live
Shadow

صحت و خوراک

جنک فوڈ ہمیں جنیاتی سطح پر بھی بوڑھا کر رہی ہے: تحقیق

جنک فوڈ ہمیں جنیاتی سطح پر بھی بوڑھا کر رہی ہے: تحقیق

صحت و خوراک
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فیکٹریوں میں تیار کردہ ہر طرح کے کھانے اور دیگر جنک اور فاسٹ فوڈ ہمیں عارضی صحت کے مسائل کے ساتھ ساتھ خلیاتی اور جنیاتی یعنی ڈی این اے تک کی سطح تک نقصان پہنچا رہے ہیں اور بوڑھا کررہے ہیں۔محققین کو معلوم ہوا ہے کہ ان غذاؤں کا استعمال ایسے انسانی کروموسوم کو متاثر کرتا ہے جن کا تعلق عمررسیدگی سے ہوتا ہے۔ فیکٹریوں کی ڈبوں میں محفوظ کردہ غذاؤں سے انسانی کروموسوم کے کناروں پر جڑے ٹیلومریز سکڑتے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ قدرتی عمل ہے اور زندگی بھر جاری رہتا ہے لیکن صنعتی طریقوں سے تیار کردہ کھانے کھانے سے اس عمل کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ یعنی جنک فوڈ ہمارے ڈی این اے تک پر اثرانداز ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ سکڑتے ٹیلومریز عمررسیدگی کی علامت ہیں اور ناقص خوراک اس سکڑاؤ کو بڑھاتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنک فوڈ، فاسٹ فوڈ اور ہر طرح کی پروسیس شدہ غذاؤں میں کئی طرح ک...
باورچی خانے کا دواخانہ

باورچی خانے کا دواخانہ

صحت و خوراک
کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سے امراض کا علاج آپ کے گھر میں ہی موجود ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہےکہ شفا کے ان خزانوں کا درست ادراک اور استعمال کیا جائے۔مثلاًجوڑوں کا درد اور ہلدیہلدی پر تحقیق برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے اور اب اسے محققین کمال کی خوراک قرار دے رہے ہیں۔ ہلدی میں شامل اہم مادہ سرکیومن دل، آنتوں، امنیاتی نظام اور دیگر اعضا کو بہتر بناتا ہے۔ یہ کینسر روکنے اور بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔لیکن اس کے استعمال سے پہلے یاد رہے کہ اگر ہلدی میں کالی مرچیں اور کچھ چکنائی ڈال کر استعمال کی جائے تو اس سے سرکیومن کی بدن میں جذب ہونے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ بصورتِ دیگر سرکیومن کی بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔ہلدی جوڑوں کے درد اورجلن کو کم کرتی ہے اور ہڈیوں کے درد کو بھی رفع کرتی ہے۔ اپنے سوزش کم کرنے والے اجزا کی وجہ سے باقاعدہ لوگ اسے اپنی خوراک کا حصہ...
وقت پر کھانا کھانا کتنا ضروری – نئی تحقیق کے چشم کشاء انکشافات

وقت پر کھانا کھانا کتنا ضروری – نئی تحقیق کے چشم کشاء انکشافات

صحت و خوراک
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وقت بے وقت کھانا اور غذائی اوقات میں بے ترتیبی انسانی جسم کو ہمارے پچھلے تمام اندازوں سے کہیں زیادہ متاثر کرتی ہے۔محققین کے مطابق نئی تحقیق کے بعد پتہ چلا ہے کہ جسم کے ہر خلیے کے اندر بھی 24 گھنٹے کی ایک گھڑی ہوتی ہے، جو سورج کی قدرتی روشنی اور چاند کے مدوجزر کے پیش نظر ہمارے خلیات کے ساتھ شراکت کرتے ہوئے بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اوقات میں کام کرنے والے افراد دوسروں کے مقابلے میں بہت جلد موٹاپے اور ذیابیطس وغیرہ کے شکار بن جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جسم کی اندرونی گھڑیاں ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں رہتیں۔ کیونکہ ان کے کھانے کے اوقات میں شدید بے ترتیبی ہوتی ہے۔لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے اثرات مزید دوررس ہوسکتے ہیں کیونکہ وقت بے وقت کھانے سے جسم کے حیاتیاتی اوقات کار شدید متاثر ہوتے ہیں۔ذیابیطس اور میٹابولزم کےمطابق...
کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،بار بارسراٹھا سکتی ہے : عالمی ادارہ صحت

کورونا وائرس موسمی نہیں، ایک بڑی لہر ہے،بار بارسراٹھا سکتی ہے : عالمی ادارہ صحت

coronavirus, COVID-19, Health & Family, news, Urdu, world عالمی خبریں, اردو نیوز, صحت و خوراک, کورونا, معلومات عامہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کو ‘ایک بڑی لہر’ قرار دیتے ہوئے شمالی نصف کرہ میں موسم گرما کے دوران وبا کی منتقلی سے متعلق خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس انفلوئنزا کی طرح نہیں جو موسمی رجحانات کی پیروی کرے۔برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں ورچوئل بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کی عہدیدار مارگریٹ ہیریس نے کہا کہ لوگ تاحال موسموں کے بارے میں سوچ رہے ہیں، لیکن ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ نیا وائرس ہے اور یہ مختلف طرح سے برتاؤ کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی وبا کی پہلی لہر ہے، یہ ‘ایک بڑی لہر’ بننے جارہا ہے، اس میں اتار چڑھاؤ آئیں گے لہٰذا یہی بہتر ہے کہ سخت احتیاط برتی جائے تاکہ اس وبا کا خاتمہ کردیا جائے۔مارگریٹ ہیرس نے امریکہ میں گرمی کے موسم کے باوجود بڑھتے ہوئے کیسز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وائرس کی سست منتقلی کے لیے اقدامات ...
کیا کھائیں، کیا نہیں۔۔۔؟

کیا کھائیں، کیا نہیں۔۔۔؟

صحت و خوراک, طب, علمی تحریریں, معلومات عامہ
ڈاکٹر شاہد رضاہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک عمومی سوال کہ آج کیا پکائیں تو ہے ہی پر عموماً مریض بھی ڈاکٹروں سے ایک سوال پوچھتے نظر آتے ہیں جو ہے؛ کیا کھائیں کیا نہ کھائیں۔۔۔؟ہمیں سب سے پہلے اپنی خوراک میں دو چیزیں ٹھیک کرنی ہیں۔ ایک پینے کا پانی اور دوسرا آٹا۔ حسب موسم پانی دن میں وقفے وقفے سے پیتے رہیں اور روٹی تین دفعہ نہیں تو دو دفعہ ضرور کھائیں۔ اور ہو سکے تو سالن ایک وقت سے زیادہ استعمال مت کریں، یعنی تازہ کھانا تناول فرمائیں۔فیکٹریوں کی وجہ سے زیر زمین پانی میں مختلف قسم کے کیمیکل اور غلاظتیں حل ہو گئیں ہیں جو کہ بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔ کم گہرائی سے حاصل کیا گیا پانی زیادہ مضر صحت ہے۔زیادہ گہرائی سے حاصل شدہ پانی قدرے بہتر ہے۔ پھر بھی پانی کا ٹی ڈی ایس چیک کریں اور اگر نمکیات کی مقدار زیادہ ہے توٹیسٹ میں ٹی ڈی ایس زیادہ آئے گا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطا...