منگل, April 20 Live
Shadow

علاقائی تہذیبیں

مصر: فوجی حکومت نے فراعین کی خنوط شدہ لاشیں پرشکوہ تقریب میں نئے عجائب گھر منتقل کر دیں

مصر: فوجی حکومت نے فراعین کی خنوط شدہ لاشیں پرشکوہ تقریب میں نئے عجائب گھر منتقل کر دیں

علاقائی تہذیبیں
مصر کی فوجی حکومت نے 22 فراعین کی خنوط شدہ لاشوں کو نئے عجائب گھر منتقل کرنے کے لیے خصوصی جلوس کا انعقاد کیا ہے۔ انتہائی پر شکوہ تقریب میں فراعین کو ملکی فخر کے طور پر پیش کیا گیا۔ خصوصی طور پر سجائے گئے ٹرکوں پر فراعین کے تابوت سوار تھے جنہیں اب سیاحوں کے لیے قائم نئے مرکزی عجائب گھر میں رکھا جائے گا۔https://youtu.be/R21y3kf8hhohttps://youtu.be/G4jXpckJLVwhttps://youtu.be/EwuduZxFiWgفراعین کی لاشوں کو خصوصی اور جدید ترین تابوتوں میں رکھا گیا تھا، جنہیں نائٹروجن سے بھرا گیا تھا تاکہ لاشیں ہر طرح کے موسمی اثر سے محفوظ رہ سکیں۔واضح رہے کہ نیا عجائب گھر مصر کے پہلے اسلامی دارالخلافہ فسطاط میں بنایا گیا ہے۔ جبکہ سماجی حلقوں کی جانب سے وباء کے دوران پرشکوہ تقریب پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ اس موقع پر قاہرہ کے تحریر چوک پر کچھ آثار قدیمہ کے مجسمے بھی نصب کیے گئے ہیں۔...
ملک میں نسلی تعصب میں اضافے اور یہودیوں کے خلاف نفرت بڑھنے پر شرمندہ ہوں: جرمن چانسلر

ملک میں نسلی تعصب میں اضافے اور یہودیوں کے خلاف نفرت بڑھنے پر شرمندہ ہوں: جرمن چانسلر

سیاست, علاقائی تہذیبیں
جرمن چانسلر انجیلا میرکل کا کہنا ہے کہ انہیں شرمندگی ہے کہ ملک میں نسل پرستی اور یہودیوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کی 50ویں سالگرہ پر یہودی برادری سے خطاب میں جرمن چانسلر نے ملک میں نمایاں طور پر بڑھتے ہوئے نسل پرستی کے رحجان کی مذمت کی اور کہا کہ یہ جرمن معاشرے کے لیے ایک بدنما داغ ہے۔یاد رہے کہ 2019 میں جرمنی میں یہودیوں پر حملوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔جرمنی میں قائم مرکزی یہودی کونسل جرمنی اور صہیونی ریاست میں تعلقات پر کام کرتی ہے۔ جس کے سربراہ جوزف شستر نے تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم خوش ہیں کہ جرمن لوگ اور سیاسی جماعتیں عمومی طور پر ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تاہم کچھ نسل پرست تنظیموں نے کورونا وباء کو یہودیوں کے خلا ف نفرت پھیلانے کے لیے خوب استعمال کیا ہے، اس کی روک تھام کی جانی چاہیے۔ ...
کشمیر میں اردو کا مستقبل

کشمیر میں اردو کا مستقبل

بلاگ, پاکستان, علاقائی تہذیبیں
اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو بزور طاقت ختم کرکے خطے کے مسلم تشخص کو ببانگ دہل ختم کرنے کا آغاز کر دیا۔ اس میں ریاست میں اردو کی مرکزی حیثیت کو ختم کرنا اور کشمیری زبان کے رسم الخط کو بدل دینا بھی شامل ہے۔اردو کے بارے میں مودی سرکار کے مستقبل کے پلان کا اندازہ صرف دس دن بعد اس وقت ہوا جب بھارت کے یوم آزادی 15 اگست کی سرکاری تقریب میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے اپنا خطاب شدھ ہندی میں کیا جو محصور کشمیریوں کو سرکاری ٹیلیوژن کی وساطت سے دیکھنے کو ملا۔مجھے نہیں معلوم کہ اس پر کسی جانب سے کوئی تبصرہ بھی ہوا یا نہیں کیونکہ اس وقت ہم سب سخت ترین محاصرے میں اور بیرونی دنیا سے مکمل طور پرکٹے ہوئے تھے۔ مگر گورنر صاحب کے خطاب کے بعد ہمیں مستقبل قریب کی خوفناک صورتحال کا بخوبی ادراک ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے کشمیر میں گورنر راج کے کئی ادوار میں سرکاری تقریبات میں تقریریں ...