ہفتہ, اکتوبر 24 Live
Shadow

موسم و ماحولیات

تحقیق: 1٪امیرترین افراد کا رہن سہن آدھی غریب آبادی سے بھی زیادہ کاربن گیس کے اخراج کا ذمہ دار ہے

تحقیق: 1٪امیرترین افراد کا رہن سہن آدھی غریب آبادی سے بھی زیادہ کاربن گیس کے اخراج کا ذمہ دار ہے

موسم و ماحولیات
غربت کے خلاف کام کرنے والے عالمی ادارے آکسفام اور سٹاک ہوم کے ماحولیاتی ادارے نے ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 1990 سے 2015 کے دوران 25 سالوں میں فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 60 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس اضافے کے 15 فیصد کے ذمہ دار دنیا کے 1 فیصد امیرترین (سالانہ 1 لاکھ سے زیادہ کمائی) افراد ہیں۔ یعنی ایک فیصد امیر ترین افراد، تقریباً آدھی غریب آبادی سے بھی دوگنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔اور اگر 10 فیصد (63 کروڑ) امیر افراد (سالانہ 35 ہزار ڈالر تک کمائی) کے رہن سہن کا جائزہ لیا جائے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خروج میں 52 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔تحقیق میں تنبیہ کی گئی ہے کہ امیرزادوں کا تیز گاڑیوں کا شوق، بلاضرورت کی خریدوفروخت اور نجی پروازوں سے نام نہاد سیروسیاحت، فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اضافے کی اہم اور بڑی ...
جدید شہری زندگی کے باعث جانوروں سے انسانوں میں بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا: تحقیق

جدید شہری زندگی کے باعث جانوروں سے انسانوں میں بیماریوں کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا: تحقیق

طب, موسم و ماحولیات
وبائی امراض پرتحقیق کرنے والے محققین نے تنبیہ کی ہے کہ جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں منتقل ہونے کے خطرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی تلاش میں کلیدی کردار ادا کرنے والی محقق سارہ گلبرٹ کا کہنا ہے کہ ہماری جدید طرز زندگی کی وجہ سے جانوروں سے انسانوں میں بیماریاں پھیلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر گنجان آبادیوں میں اس کا خطرہ شدید ہو گیا ہے۔ جبکہ بین الااقوامی سفر میں اضافے و تیزی کے ساتھ ساتھ آبادیوں میں قدرتی ماحول کی کمی نے بھی خطرے کو شدید کر دیا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس کا ماخذ تاحال ایک راز ہے لیکن کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑوں سے کسی اور جانور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔حال ہی میں دنیا بھر میں پھیلنے والی بیماریاں جیسے کہ ایبولا، سارس اور ویسٹ نائل وائرس بھی جانوروں سے شروع ہوئے لیکن کووڈ 19 ان میں سب سے ...
صدی کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ: امریکہ میں پارے نے 54 درجے چھو لیے

صدی کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ: امریکہ میں پارے نے 54 درجے چھو لیے

موسم و ماحولیات
سائنسدانوں نے کیلیفورنیہ امریکہ میں اس صدی کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا ہے۔ کیلیفورنیا کی مشہوروادی، جسے موت کی وادی کے نام سے جانا جاتا ہے میں 130 فارن ہائیٹ یعنی 54.4 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جس کی تصدیق امریکی موسمیاتی ادارے نے بھی کردی ہے۔اس وقت امریکا میں مغربی ساحلی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جس میں اس ہفتے مزید اضافے کا بھی امکان ہے، اور گرمی کا مزید نیا ریکارڈ بھی بن سکتا ہے۔دنیا میں اب تک بلند ترین درجہ حرارت کے ریکارڈ میں 2013 میں امریکہ کی اسی موت کی وادی میں 54 درجے سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جبکہ گزشتہ صدی میں بھی موت کی وادی میں ہی 56.6 درجے سینٹی گریڈ گرمی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ موجودہ ماہرین موسمیات اسے درست ماننے سے انکاری ہیں۔اسی طرح 1931 میں تیونس میں 55 درجے سینٹی گریڈ گرمی ریکارڈ کرنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے، لیک...