بدھ, اکتوبر 20 Live
Shadow
سرخیاں
نیٹو کے 8 روسی مندوبین کو نکالنے کا ردعمل: روس نے سارا عملہ واپس بلانے اور ماسکو میں موجود نیٹو دفتر بند کرنے کا اعلان کر دیاشام اور عراق سے داعش کے دہشت گرد براستہ ایران افغانستان میں داخل ہو رہے ہیں، جنگجوؤں سے وسط ایشیائی ریاستوں میں عدم استحکام کا شدید خطرہ ہے: صدر پوتنآؤکس بین الاقوامی سیاست میں کشیدگی و عدم استحکام بڑھانے اور اسلحے کی نئی دوڑ کا باعث ہو گا: چین اور مشرقی ممالک کے خلاف مغرب کے نئے عسکری اتحاد پر روسی ردعملایف بی آئی نے خفیہ کارروائی میں جوہری آبدوز ٹیکنالوجی بیچتے دو فوجی انجینئر گرفتار کر لیےامریکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیوں میں چین سے 15/20 سال پیچھے ہے: پینٹاگون سافٹ ویئر شعبے کے حال ہی میں مستعفی ہونے والے سربراہ کا تہلکہ خیز انٹرویوروسی محققین کووڈ-19 کے خلاف دوا دریافت کرنے میں کامیاب: انسانوں پر تجربات شروعسابق افغان وزیردفاع کے بیٹے کی امریکہ میں 2 کروڑ ڈالر کے بنگلے کی خریداری: ذرائع ابلاغ پر خوب تنقیدہمارے پاس ثبوت ہیں کہ فرانسیسی فوج ہمارے ملک میں دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہے: مالی کے وزیراعظم مائیگا کا رشیا ٹوڈے کو انٹرویوعالمی قرضہ 300کھرب ڈالر کی حدود پار کر کے دنیا کی مجموعی پیداوار سے بھی 3 گناء زائد ہو گیا: معروف معاشی تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں تنبیہامریکہ میں رواں برس کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2020 سے بھی بڑھ گئی: لبرل امریکی میڈیا کی خاموشی پر شہری نالاں، ریپبلک کا متعصب میڈیا مہم پر سوال

تعلیم

اساتذہ کے تحقیقی مقالے تعلیم کو تباہ کر رہے ہیں

اساتذہ کے تحقیقی مقالے تعلیم کو تباہ کر رہے ہیں

تعلیم, معاون مواد/مہمان تحریریں
اے وسیم خٹک - مہمان تحریر -آپ جب بھی کسی یونیورسٹی میں ملازمت کے لیے انٹرویو دینے آتے ہیں تو اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا آپ کے تحقیقی مقالے ہیں، اگر ہاں میں جواب دیا جاتا ہے تو پھر ایک دوسری جانب سے سوال اچھال دیا جاتا ہے کہ کیا وہ کسی اچھے ایمپیکٹ فیکٹر والے جرنل میں چھپے ہیں یا ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق شدہ ہیں؟اگر آپ کا جواب نفی میں آیا تو آپ کو مشکوک نظروں سے دیکھا جائے گا اور آپ کو محسوس ہو گا کہ جیسے آپ دنیا کے نالائق ترین انسان ہیں۔ آپ سر جھکائے ہوئے کسی شکست خوردہ سپاہی کی طرح انٹرویو کے کمرے سے باہر نکلیں گے۔موجودہ دور میں قابلیت کا معیار اچھا پڑھانا نہیں بلکہ زیادہ تحقیقی مقالے ہیں، جن کی دوڑ میں پاکستان کے تمام پروفیسر لگے ہوئے ہیں۔ وہ اب پڑھانے پر اتنی توجہ نہیں دیتے بلکہ ہر وقت تحقیقی مقالے لکھنے اور اسے چھپوانے میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔ پھر بھی ...

Contact Us