بدھ, April 21 Live
Shadow

مالیات

چینی معاشی و ٹیکنالوجی ترقی کے بعد ڈیجیٹل مالیاتی نظام امریکہ کے اعصاب پر سوار: فوری متبادل نہ سہی پر مالیاتی پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل یوآن استعمال ہو سکتا، امریکی ماہرین

چینی معاشی و ٹیکنالوجی ترقی کے بعد ڈیجیٹل مالیاتی نظام امریکہ کے اعصاب پر سوار: فوری متبادل نہ سہی پر مالیاتی پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل یوآن استعمال ہو سکتا، امریکی ماہرین

مالیات, معیشت
چین کی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ امریکہ پر اب چینی ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کا خوف بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ امریکی حکام آج کل ڈیجیٹل یوآن کو لے کر انتہائی پریشان ہیں اور اسے ڈالر کے مقابلے میں بڑا خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر چینی ڈیجیٹل یوآن ڈالر سے قبل مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو ڈالر عالمی پیسے کی حیثیت کھو دے گا۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ مالیاتی، پینٹاگون، دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کونسل آج کل ڈیجیٹل یوآن کے متبادل عالمی پیسہ بننے کی صلاحیت اور دیگر معاملات پر بحث کر رہی ہے۔ خبر کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ چینی مالیاتی نظام فوری طور پر امریکی اجارہ داری کے لیے بڑا خطرہ نہیں ہے البتہ خود مختار ڈیجیٹل یوآن امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے متبادل ادائیگی کے نظام کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے اس لیے امریکی حکام ڈیجیٹل یوآن کے ...
فی الحال بٹ کوئن کے سنہرے دن چل رہے ہیں تاہم اس کی قدر 90٪ تک گر سکتی ہے، چھوٹے سرمایہ کار محتاط رہیں: ماہرین

فی الحال بٹ کوئن کے سنہرے دن چل رہے ہیں تاہم اس کی قدر 90٪ تک گر سکتی ہے، چھوٹے سرمایہ کار محتاط رہیں: ماہرین

مالیات
ڈیجیٹل پیسے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ فی الحال بٹ کوئن دنیا کا سب سے زیادہ قدر والا پیسہ ہے، اور مستقبل میں اس کی قدر 3 لاکھ ڈالر فی ڈیجیٹل سکے تک جا سکتی ہے تاہم جب ماہرین کے مطابق جب یہ بلبلہ پٹھےگا تو اسکی قدر مسلسل کئی سالوں تک گرتی رہے گی۔امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں دو بار ڈیجیٹل پیسے کی قدر میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، یعنی عمومی طور پر ڈیجیٹل پیسے کا چکر چار سال میں پورا ہوتا ہے، فی الحال بٹ کوئن چڑھاؤ کے رحجان کا حامل ہے اور ماہرین کے مطابق رواں موسم گرما تک اسکی قدر 1 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔امریکی ماہرین کا ماننا ہے کہ بٹ کوئن کا ابھی موسم بہار چل رہا ہے اور اسکی قدر میں ابھی مزید اضافہ متوقع ہے، تاہم جب قدر گرنا شروع ہوگی، تو یہ سلسلہ دو سے تین برسوں تک برقرار رہ سکتا، گراوٹ کے اس عمل کو ڈیجیٹل پیسے کا موسم سرما کہا جاتا ہے۔ماہرین نے چھو...
روس کا ایک بار پھر چین پر ڈالر میں تجارت ختم کرنے اور متبادل مالیاتی نظام لانے پر زور

روس کا ایک بار پھر چین پر ڈالر میں تجارت ختم کرنے اور متبادل مالیاتی نظام لانے پر زور

مالیات
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے چینی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا ہے کہ روس اور چین مل کر مغرب کی متعصب پالیسیوں اور مالیاتی پابندیوں کا شکار ہونے کے بجائے متبادل معاشی نظام کھڑا کر سکتے ہیں، سرگئی لاوروو کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ، روس اور چین کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کو ہضم نہیں کر پا رہا اور مسلسل اسکی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے، ایسے میں دونوں مشرقی ممالک کو مل کر اس کے خلاف کام کرنا چاہیے۔امریکی معاشی و تجارتی پابندیوں کے نقصان سے بچنے کے لیے روسی وزیر خارجہ نے مقامی پیسے میں تجارت کرنے کی ضرورت پر زور دیا، انکا کہنا تھا کہ دنیا کے لیے مغربی مالی نظام سے آزادی حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، جہاں سب کچھ امریکی یا اسکے چند اتحادیوں کے مفاد میں ہے۔سرگئی لاوروو کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک اپنے خاص نظریے کو ترویج دے رہے ہیں، تاکہ اعلیٰ سطح پر اپنی بالادستی کو برقرار رکھ سکیں ا...
کورونا وباء کے دوران امریکی ارب پتیوں کی دولت میں ریکارڈ اضافہ ہوا: تحقیقاتی رپورٹ

کورونا وباء کے دوران امریکی ارب پتیوں کی دولت میں ریکارڈ اضافہ ہوا: تحقیقاتی رپورٹ

مالیات
امریکہ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وباء کے دوران امریکی ارب پتیوں کی دولت میں ایک کھرب ڈالر سے بھی زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 651 امریکی ارب پتیوں نے مجموعی طور پر مارچ 2020 سے اب تک 9 ماہ میں 1 کھرب 6 ارب ڈالر کمائے ہیں۔ رقم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ رقم 32 کروڑ 82 لاکھ امریکیوں میں تقسیم کی جائے تو فی کس 4 لاکھ 81 ہزار پانچ سو روپے بنتے ہیں، یہاں یہ واضح رہے کہ یہ کمائی صرف گزشتہ 9 ماہ کی ہے اور اس میں ان کے وباء سے پہلے کی دولت کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق نو ماہ میں ارب پتیوں کی دولت میں فی کس اوسطاً 36 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، اور یہ 4 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو 50 فیصد غریب امریکیوں کی مجموعی دولت یعنی 2 کھرب ڈالر کے برابر ہے۔ادارہ برائے مساوی ٹیکس اور پالیسی مطالعہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ...
دنیا کو مالیاتی بحران سے نکلنے کیلئے نئے بریٹن ووڈ معاہدے کی ضرورت، برکس ممالک نیا مالیاتی نظام متعارف کروائیں: سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج کیلؤوے

دنیا کو مالیاتی بحران سے نکلنے کیلئے نئے بریٹن ووڈ معاہدے کی ضرورت، برکس ممالک نیا مالیاتی نظام متعارف کروائیں: سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج کیلؤوے

مالیات
سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلؤوے کا کہنا ہے کہ فوری ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے توعالمی مالیاتی نظام عنقریب بُری طرح سے گِر سکتا ہے۔ رشیا ٹوڈے کے مالیاتی امور کے پروگرام قیئصر رپورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جارج گیلؤوے کا کہنا تھا کیونکہ دنیا میں اس وقت کرنسیوں کے پیچھے کسی قسم کے ٹھوس وسائل (سونا وغیرہ) موجود نہیں ہیں، یعنی موجودہ نوٹ ایک کاغذ کے ٹکرے کے سوا کچھ نہیں ہے، لہٰذا ایسے میں مرکزی بینکوں کا ان نوٹوں سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنا کسی بھی طرح عقلمندی نہیں ہے؟ ہم کاغذ کے ٹکروں کے بدلے باقائدہ خریدوفروخت کر رہے ہیں۔جارج گیلؤوے کا مزید کہنا تھا کہ شدید مالیاتی دباؤ کے باعث ایران، وینزویلا اور دیگر ایسے ممالک جنہیں عالمی پابندیوں کی وجہ سے شدید مالیاتی بحران کا سامنا ہے، وہ جلد بٹ کوئن جیسی کرپٹو کرنسیوں کی طرف چلے جائیں گے۔ بٹ کوئن ان میں سے سب سے مؤثر لگتا ہے، کیونکہ کاغذ کے ب...
چین کا ای-یوآن کا ایک اور کامیاب تجربہ: آئندہ سرمائی اولمپکس میں صرف برقی کرنسی کے استعمال کا مکمل منصوبہ پیش

چین کا ای-یوآن کا ایک اور کامیاب تجربہ: آئندہ سرمائی اولمپکس میں صرف برقی کرنسی کے استعمال کا مکمل منصوبہ پیش

مالیات
چین کے عوامی بینک نے 31 لاکھ سے زائد خود مختار ڈیجیٹل کرنسی کی ترسیلات کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ تجربہ شینزن اور شیونگان کے شہروں میں کیا گیا ہے۔بینک کے نائب ذمہ دار فین ییفی کے مطابق فی الحال مجموعی طور پر 1 ارب ایک کروڑ یوآن کی ترسیلات کی گئی ہیں۔چین کا آئندہ سرمائی اولمپکس کھیلوں، جو 2022 میں متوقع ہیں، میں مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال کا ارادہ ہے۔بینک کے مطابق گزشتہ آگست میں بھی ایک مشق میں سرکاری ادائیگیوں، جرمانوں اور سفری ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال متعارف کروایا گیا تھا۔بینک کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کا قیام مستقبل کے جدید مالی ڈھانچے کے لیے ناگزیر ہے، تاہم یہ مکمل طور پر خود مختار ہو گا۔بینک کے مطابق اب تک 1 لاکھ 13 ہزار 300 شہریوں اور 8800 کمپنیوں کو ای-یوآن کھاتے دیے گئے ہیں۔ جس میں صارف اپنے چہرے کو مشین کے سامنے لا کر، موبائل بار کو...
دسیوں کھرب ڈالر کا غیر قانونی سرمایہ آف شور بینکوں میں منتقل کیا جا رہا: رشیا ٹوڈے کے پروگرام قیصر رپورٹ میں انکشاف

دسیوں کھرب ڈالر کا غیر قانونی سرمایہ آف شور بینکوں میں منتقل کیا جا رہا: رشیا ٹوڈے کے پروگرام قیصر رپورٹ میں انکشاف

مالیات
معروف مالیاتی تجزیہ پروگرام "قیصر رپورٹ" کی نئی قسط میں میکس قیصر کا کہنا ہے کہ موجودہ سارا مالیاتی چکر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ کسی بھی کرنسی خصوصاً ڈالر کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے، اور وہ کرنسیاں جو ڈالر کے بل بوتے پر خود کو چلا رہی ہیں، ان کے بارے میں تو کچھ بھی کہنا بے کار ہے۔مالیاتی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر جاری کرنے والا وفاقی ادارہ، خود ادھار پر چل رہا ہے، اور یہ پھر یہی ادھار پر چلنے والی دیگر کمپنیوں کو خریدنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی ادھار پر ادھار کی کمپنیاں خریدی جاتی ہیں، اور یہ گورکھ دھندا اپنے عروج پر ہے، قصہ مختصر کہ یہی موجودہ عالمی مالیاتی نظام کی حقیقت ہے۔میکس قیصر نے نئی آنے والی قسط میں سٹیزن زیئس کی بانی زیئس یامؤیانس سے گفتگو کی ہے، جس میں زیئس کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ماضی قریب میں کھربوں ڈالر آف شور بینکوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔ یعنی ما...
ڈالر کی قدر 2021 میں 50 فیصد تک گِر جائے گی: امریکی ماہرین

ڈالر کی قدر 2021 میں 50 فیصد تک گِر جائے گی: امریکی ماہرین

مالیات
امریکی مالیاتی ماہر کا کہنا ہے کہ اگلا سال امریکی کرنسی کے لیے تباہ کن ہو گا، اور معاشی حالات بتاتے ہیں اب یہ سب بالکل بھی انوکھا یا اچانک نہیں بلکہ واضح طورپرہو گا۔ ییل یونیورسٹی کے ماہر مالیات سٹیفن روچ نے امریکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اعدادوشمار اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکی کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹ خسارے تاریخی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔میڈیا سے گفتگو میں سٹیفن روچ کا کہنا تھا کہ امریکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو ہماری غیر متوازی بین الاقوامی تجارت کو ظاہر کرتا ہے، رواں مالی سال کے دوسرے حصے میں تاریخی گراوٹ کا شکار ہوا ہے۔ جبکہ دوسری طرف سیونگ اکاؤنٹ، جو انفرادی، کاروباری اور حکومتی اثاثہ جات کو ظاہر کرتا ہے، بھی عالمی کساد بازاری کے بعد پہلی دفعہ تاریخی بدحالی کو عیاں کر رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں معروف عالمی معاشی جریدے اکانومسٹ نے پیشن گوئی کی تھی ک...
بریگزٹ: امریکی کمپنی کے 230 ارب ڈالر برطانیہ سے جرمنی منتقل، یورپ میں برطانیہ کو پہلے بڑے مالی نقصان کی سرخیاں

بریگزٹ: امریکی کمپنی کے 230 ارب ڈالر برطانیہ سے جرمنی منتقل، یورپ میں برطانیہ کو پہلے بڑے مالی نقصان کی سرخیاں

مالیات
امریکا کا ایک بہت بڑا بینک برطانیہ میں اپنے سینکڑوں ارب ڈالر کے اثاثے اب جرمنی منتقل کر رہا ہے۔ جے پی مورگن چیز اینڈ کمپنی کے اس اقدام کو بریگزٹ کے باعث برطانیہ کو ہونے والا ’پہلا بہت بڑا نقد نقصان‘ قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق جے پی مورگن چیز اینڈ کمپنی ایک ایسا امریکی بینک ہے، جو ماضی میں جے پی مورگن اور چیز مین ہیٹن بینک کے ادغام سے وجود میں آیا تھا۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج یا بریگزٹ کے بعد اب اس بینک نے برطانوی دارالحکومت لندن سے اپنے اثاثے جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔خبروں کے مطابق نقد اثاثوں کی اس منتقلی کا مقصد امریکی بینک کا خود کو یورپی یونین سے باہر رہتے ہوئے یورپ میں کاروبار کرنے کے عمل میں نقصانات سے بچانا ہے۔ جبکہ ایسا کرنے سے بینک کو یورپ اور یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت میں کاروبار کرنے سے فائدہ بھی ہو گا۔...
عالمگیریت کا دور ختم، انتشار شروع: جرمن بینک کی پیشن گوئی

عالمگیریت کا دور ختم، انتشار شروع: جرمن بینک کی پیشن گوئی

مالیات
جرمن بینک نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ عالمگیریت کا 40 سالہ دور ختم ہو رہا ہے اور اب انتشار کا دور شروع ہونے والا ہے۔بینک کے مالیاتی ماہرین نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتشار کے آئندہ دس سال انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جس میں معیشت اور سیاست دونوں ہی بدل جائیں گی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنعتی انقلاب کے دوسرے دور یعنی 1980 سے 2020 کے دوران ہونے والی اثاثہ جات کی مالیت میں ترقی تاریخی تھی، جو انسانی تاریخ میں کبھی بھی حاصل نہیں ہوئی۔ اور انتشار کا آنے والا دور نہ صرف یہ کہ اسے برقرار نہیں رکھ سکتا بلکہ یہ اس ترقی کو کھا جائے گا۔سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا، جسے ایک نئے عظیم نظام کا چکر کہا گیا ہے۔ ماہرین نے رپورٹ میں کہا ہے کہ نظام کی تبدیلی اثاثہ جات کی مالیت، معیشتوں، سیاست اور یہاں تک کہ رہن سہن کو بھی بدل دے گا۔ماہر...