اتوار, جنوری 17 Live
Shadow

نقطہ نظر

انٹرنیٹ اور صحافتی اخلاقیات

انٹرنیٹ اور صحافتی اخلاقیات

نقطہ نظر
آج انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والا ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں ایک خاص طاقت کا مالک ہے۔ اس طاقت نے انسانوں کو جوڑا ضرور ہے لیکن اک نئی ایجاد کے ناطے اسکے استعمال کے لیے درکار تعلیم اور مصارف پر توجہ نہ دینے کے باعث دنیاانٹرنیٹ کو لے کر  بڑے سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ جن میں ایک بڑا مسئلہ انفرادی اور اجتماعی ابلاغیات میں بڑھتی  سماجی اخلاقی گراوٹ ہے۔چند روز قبل مجھے پاکستان میں جامعہ سیالکوٹ کے طلباء سے آن لائن گفتگو کا موقع ملا، جن میں سے بیشتر طلباء شعبہ صحافت سے تعلق رکھتے تھے۔ میری مختصر گفتگو کے بعد سوال و جواب کی نشست میں ہمارا موضوع کب آن لائن دنیا میں صحافت اور اخلاقیات میں بدل گیا، ہمیں اسکا احساس ہی نہ ہوا۔ میں نے پایا کہ صحافتی اخلاقیات کو لاحق خطرات کا احساس صرف ترکی اور امریکہ میں نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان میں بھی شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ طلباء جاننا چاہتے تھے کہ سماجی...
شنگھائی تعاون تنظیم – پاکستان کے لیے ایک موقع؟

شنگھائی تعاون تنظیم – پاکستان کے لیے ایک موقع؟

نقطہ نظر
دنیا میں جس رفتار سے طاقت کا توازن بدل رہا ہے، اسی رفتار سے عالمی طاقتیں اور دفاعی طور پر غیر محفوظ ریاستیں نہ صرف یہ کہ نئے اتحاد بنا رہی ہیں بلکہ پرانے اتحادیوں کو ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے بھی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ ایسے میں شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم علاقائی تنظیم کے طور پر ابھر رہی ہے۔ تاہم یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کی علاقائی اتحاد میں شمولیت، اسے دفاعی حصار تو دے سکتی ہے لیکن عمومی رائے کے برعکس اس سے ہندوستان کے ساتھ موجود تنازعات کو ختم کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔تنظیم کے 8 مستقل ارکان ہیں، جن میں چین، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان شامل ہیں، جبکہ 4 ریاستیں (افغانستان، بیلاروس، منگولیا اور ایران) فی الوقت بطور مبصر اس کے اجلاسوں میں شریک ہوتی ہیں اور چھے ریاستیں شمولیت کی خواہشمند ہیں اور انکے ساتھ گفتگو جاری ہے۔ ان چھے ریاستوں میں ترک...
برنی سینڈر کی جو بائیڈن کو تنبیہ: بائیں بازو کی حمایت حاصل کرو یا انتخابات ہارنے کیلئے تیار رہو

برنی سینڈر کی جو بائیڈن کو تنبیہ: بائیں بازو کی حمایت حاصل کرو یا انتخابات ہارنے کیلئے تیار رہو

نقطہ نظر
امریکی صدارتی انتخابات جوں جوں نزدیک آرہے ہیں، امیدواروں میں سیاسی بیان بازی کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں صدر ٹرمپ اپنے مد مقابل صدارتی امیدوار جوبائیڈن کو شدت پسند بائیں بازو کی کٹھ پتلی کہہ کر چڑاتے نظر آرہے ہیں پر لگتا ہے کہ امریکی بائیں بازو کا حلقہ ان سے مطمئن نہیں ہے۔حال ہی میں ڈیموکریٹ رہنما برنی سینڈر نے جماعت کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے لیے شکایت اور مشورے سے لپا ہوا بیان جاری کیا ہے، سینڈر کا کہنا ہے کہ بائیڈن کو انتخابات کے لیے بائیں بازو کی حمایت جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے، پر انکے اصرر کے باوجود بائیڈن کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ واضح رہے کہ برنی سینڈر لبرل نظریے کی حامل ڈیموکریٹ پارٹی کے شراکتی نظریات کے لیے معروف رہنما ہیں، اور انہوں نے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے اپنی نامزدگی جوبائیڈن کے حق میں واپس لی تھی۔صدر ٹرمپ اپنے انتخابی جلسوں میں اکثر کہتے نظ...
اوبور: 71 ملکوں پر محیط چینی منصوبہ کیا کر سکتا ہے؟

اوبور: 71 ملکوں پر محیط چینی منصوبہ کیا کر سکتا ہے؟

عالمی, علمی تحریریں, نقطہ نظر
چین کا ون بیلٹ ون روڈ یعنی اوبور منصوبہ، دنیا کے چار بڑے اور اہم براعظموں، ایشیا، یورپ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کو بہترین مواصلاتی نظام سے جوڑنے والا ترقیاتی منصوبہ ہے، جس میں شامل سڑکوں کے جال اور سمندری گزرگاہوں سے دنیا کی شرح نمو میں ایک تہائی سے زیادہ اضافہ ہو گا۔ منصوبے سے دنیا کی دو تہائی آبادی ایک دوسرے سے براہ راست جڑ جائے گی، جبکہ اسکے سیاسی و معاشی اثرات نے آغاز سے ہی مغربی طاقتوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔اوبور منصوبے کا خاکہمنصوبے سے جب دنیا کے 71 ممالک ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں گے، تجارتی رستے ہموار ہو جائیں گے تو نتیجتاً دنیا پر مغربی خصوصاً امریکی اجارہ داری کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ منصوبہ موجودہ عالمی انتظامی اور معاشی نظام کو بلا شبہ درہم برہم کر دے گا۔ منصوبہ دنیا بھر پر مسلط مالیاتی اداروں کے اثر و رسوخ کو بھی کم کرتے کرتے بالآخر ختم کردے گا...