بدھ, نومبر 25 Live
Shadow

Tag: ملازمت، پڑھائی، سوچ کا فقدان، معاشرتی تعلیم کا المیہ، والدین کی سوچ، ڈاکٹر بننا، انجینئر بننا، وکیل بننا، معاشرتی رہنمائی، کاروبار، نئے خیالات، پاکستانی نوجوان، حکومتی سطح پر منصوبہ بندی کی ضرورت

ہمارے بچے فقط ’نوکر بننے‘ کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں

ہمارے بچے فقط ’نوکر بننے‘ کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں

بلاگ
مشہور کہاوت ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ انیٹ لارو اپنی تحقیق میں اس بات کو مزید تقویت دیتی نظر آتی ہیں۔شمولیتی کردار سازی ان کا متعارف کردہ ایک پرورش کا انداز ہے، جس میں والدین اپنے بچوں میں موجود صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے مختلف قسم کی منظم سرگرمیاں ان کی زندگی میں شامل کرتے ہیں۔ ہمارے دیسی اندازِ پرورش میں والدین انیٹ لارو کی تھیوری کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے اور بچے کی صلاحیتوں سے بھی قطع نظر اپنی خواہشات کے تناظر میں بچے کے کیرئیر کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس کی ذہن سازی شروع کر دیتے ہیں۔ میرا بیٹا تو بڑا ہوکے ڈاکٹر ہی بنے گا اس کے علاوہ انجینئر یا وڈا افسر بننے کی خواہش بھی ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی پچھلی کئی نسلوں نے تعلیم کے حصول کا واحد مقصد کسی کا نوکر بننے کی صلاحیت حاصل کرنا طے کر لیا ہے۔ اس صورت حال میں پرورش پانے والا بچہ ذہنی طور پر اپنے تمام معاشی مسا...