فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے انسانی آوازوں کے جائزہ کاروں کوصارفین کی گفتگو کاجائزہ لینےسے روک دیا ہے
جیسا کہ حال ہی میں دوسرے بگ ٹیک کے بارے میں بھی پتہ چلا تھا۔واضح رہے کہ مبینہ طور پر فیس بک کے ٹھیکیداروں کو ان کی نوکری کی حقیقی صورت حال کے بارے میں لاعلم رکھا گیا تھا۔
منگل کو فیس بک نے کہاتھاکہ اس نے “ایک ہفتہ پہلے سےانسانی آوازوں کے جائزے کو روک دیا تھا -” فیس بک نے مزید کہا کہ جس آڈیو کا جائزہ لیا جارہا تھا وہ میسنجرکے صارفین کی تھی جنہوں نے مصنوعی ذہانت کی تکنیک کے ذریعہ متن کو آوازمیں منتقل کیاتھا۔ کمپنی کا عذر تھا کہ انسانی جائزہ کار محض جانچ کر رہے تھے کہ آیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے متن کو آواز میں صحیح طور پر بدلا گیا یا نہیں
