سیئول نے جمعرات کو اعلان کیا کہ جنوبی کوریا جاپان سے فوجی انٹیلیجنس کے تبادلے سے متعلق معاہدے میں توسیع نہیں کرے گا۔ دونوں ایشیائی ممالک کے مابین تجارتی پابندیوں کے سبب تیزی سے تلخ کلامی جاری ہے۔
صدارتی دفتر کے مطابق جنرل سیکیورٹی آف ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ (جی ایس او ایم آئی اے) کے تحت دونوں ممالک خفیہ معلومات شیئر کر سکتے تھے۔یہ معاہدہ24 اگست کو بغیر کسی توسیع کے ختم ہورہا ہے۔
اس بیان میں جاپان کی جانب سے جنوبی کوریا کو انتہائی قابل اعتماد تجارتی شراکت داروں کی فہرست سے بغیر وجہ کے خارج کرنےکا حوالہ بھی دیا گیا ہےاور کہا گیا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے مابین سیکیورٹی تعاون کے حالات میں شدید تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
این ایچ کے کے مطابق ، جاپان کے ایک سینئر دفاعی اہلکار نے اسے “ناقابل یقین” قرار دیتے ہوئے ٹوکیو کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔ سئیول حکومت ابھی غور کر رہی ہے کہ اس کا کیا جواب دیا جائے۔
