ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ان دنوں ترکی، روس اور ایران کے درمیان سہ فریقی سربراہ اجلاس جاری ہے۔سہ فریقی اجلاس کے موقع پر روسی صدر پوتن اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں امریکہ نے براہ راست ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اس موقع پر روسی صدر پوتن کا کہنا تھا کہ شام کے تصفیے میں ایران کے اہم تعاون اور کوششوں کے بے حد شکر گزار ہیں، ایران کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی ختم کرنے اور سیاسی مفاہمت کے پُر اثر اور قابل عمل نظام کیلئے کافی کام کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدہ برقرار رکھنے کیلئے ہمارا مشترکہ مؤقف ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی بالادستی کی پالیسیوں کے ماحول میں روس اور ایران کا مل کر کام کرنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
