جمعرات, April 9 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کے دوران ایک سال میں چین کے ذخائر میں 100 ٹن سونے کا اضافہ

پیپل بینک آف چائنا نے گزشتہ ماہ اگست میں اپنے سونےکےذخائرکو 62.45 ملین اونس (1،951 ٹن) سے 62.64 ملین اونس (1،957 ٹن) تک بڑھایا تھا ، جس سے اس سال اس کا سونے کا ذخیرہ 100 ٹن سے زیادہ ہوگیا ہے۔ کم شرح نمو میں سکوک کی قدر نے چھ سال کی بلند ترین سطح کو چھوا، کیونکہ سست ترقی ، امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ اور شرح نمومیں کمی نے سرمایہ کاروں کی جانب سے سکوک کی مانگ کی حوصلہ افزائی کی۔ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے قیمتی دھاتوں کے تجزیہ کار سوکی کوپر نے کہا ہےکہ ممکنہ طور پر حفاظتی پالیسیاں اور جیو پولیٹیکل خدشات کے تقاضوں میں اضافے کے تحت سرکاری خریداری جاری رہے گی۔

سنگاپور میں مقیم اوورسیر چینی بینکنگ کے ماہر اقتصادیات ، ہووے لی نے بلومبرگ کو بتایا کہ”امریکہ کے ساتھ کشیدگی پر مبنی تعلقات کو دیکھتے ہوئے ، چین کو ڈالر کی بڑی رقم کے مقابلے میں ایک متبادل کی ضرورت ہے ، اور سونا اس کام کے لیے بہترین ہے۔اورچونکہ چین ایک سپر پاور ہے لہٰذا مجھے سونے کی مزید خریداری کی توقع ہے۔”

واضح رہے کہ اس ہفتے واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لئے پراعتماد ہیں جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ، چینی حکام ایک وسیع تجارتی معاہدے پر رضامند ہونے سے گریزاں ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

one × five =

Contact Us