گرین پیس کے ایک تحقیقاتی گروپ نےایسی خفیہ وزارتی دستاویزات کا پتہ چلایا ہے جن میں متنبہ کیا گیا ہے کہ بریکسیٹ کے بعد ، برطانیہ پر کھانا اور ماحولیاتی معیارات میں نرمی لانے کے لئے دباؤ ڈالا جائے گا جس سے ماحولیات اور صحت عامہ کو “غیر معمولی نقصان پہنچ سکتا ہے۔” محکمہ برائے ماحولیات ، فوڈ اینڈ رورل امور ، یا ڈیفرا،امریکی محکمہ برائے بین الاقوامی تجارت کےخصوصی دباؤ میں آئے گا تاکہ وہ امریکی مطالبات کوپورا کر سکے ،”
گرین پیس کے تحقیقاتی گروپ ، یونارٹھیڈ کے حوالے سے لکھے گئے اس مقالے میں لکھا گیا ہےکہ ماحولیاتی گروپ کی داخلی دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ اگر برطانیہ یوروپی یونین سے نکل جانے کے بعد امریکہ کے ساتھ تجارت جاری رکھنا چاہتا ہے تو واشنگٹن برطانیہ کے حکام کو سینیٹری اور فائیٹو سنٹری معیارات (ایس پی ایس) کو کم کرنے پر مجبور کرے گا۔ خاص طور پر ، برطانیہ کو امریکی زراعتی کمپنیوں کے ذریعہ مزید درآمدات کی اجازت دینے کے لئے جانوروں کی فلاح و بہبود اور کیڑے مار ادویات کے حوالےسے اقدامات میں نرمی پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ اقدامات” برطانیہ کے دوسرےآزاد تجارت کے معاہدوں یا برآمد ی قوانین ، جو موجودہ [ایس پی ایس] معیارات پر مبنی ہیں ، کے لئے مضمرات ہوسکتے ہیں ،”
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ”اگر برطانیہ نے کلورین سے نہلایا ہوا چکن [اور] ہارمون کھلائے گائے کے گوشت سے متعلق امریکی مطالبات پر عمل کیا تو یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کو مزید سخت کیا جائے گا۔” اس مقالے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے برطانیہ کی پیداوار ناقابل بھروسہ ہو جائے گی اور ساتھ ہی ساتھ اس ملک کے عوام کی صحت کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔
