روس نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی امریکی آپریشن کے دوران ہلاکت پر شکوک وشبہات ظاہر کرتے ہوئے سوالات اٹھادیے ہیں۔روس کے سرکاری ٹیلی وژن آر ٹی نیوز کے مطابق روسی وزارت دفاع کا کہنا ہےکہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے خلاف امریکہ کے آپریشن کے حوالے سے کوئی معتبر اور ٹھوس شواہد موجود نہیں۔روسی وزارت دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کوئی فضائی حملہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی افواج نے ادلب میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دنیا کے نمبر ایک دہشت گرد ابوبکر البغدادی کو ہلاک کردیا ہے۔
تاہم اب روس کا کہنا ہے کہ داعش سربراہ کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کی متضاد تفصیلات بھی اس کارروائی کی کامیابی پر شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہیں۔روسی حکام کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کےا س دعوے کو بھی رد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی افواج شام میں روس کے زیر اثر فضائی حدود سے گزر کر گئیں۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے ایک اور سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ داعش کے سربراہ ادلب میں کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ وہ علاقہ القاعدہ کی علاقائی شاخ النصرۃ فرنٹ کے کنٹرول میں ہے جو کہ داعش کی سخت دشمن کہلائی جاتی ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کو اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے خلاف ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ داعش کو ہمیشہ کےلئے ختم کرنے کےلئے کام کرتے رہیں گے۔
