Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

بھارت فی الفور ہماری سرزمین خالی کرے ۔ نیپالی وزیر اعظم ’کے پی شرما اولی کی تنبیہ

نیپالی وزیر اعظم ’کے پی شرما اولی‘ نے بھارت کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزی سے باز آجائے اور فوری طور پر نیپالی علاقے ’کالا پانی‘ سے اپنی فوجین ہٹالے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دیں گے۔

خیال رہے کہ مودی سرکارکی جانب سےبھارت کا جونیا سرکاری نقشہ جاری کیا گیا ہے اس میں نیپالی علاقے’کالا پانی‘ کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ نئے نقشے میں اس جارحانہ غلطی پر نیپالی حکومت نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ جب کہ متنازع علاقے میں بھارتی فوج کی تعیناتی پر عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے یوتھ ونگ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نیپالی وزیراعظم نے جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالا پانی نیپال، بھارت اور تبت کے درمیان سہہ فریقی حل طلب مسئلہ ہے جس کا تصفیہ ہونا باقی ہے لیکن اس سے پہلے ہی بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنا حصہ قرار دے دیا

وزیراعظم شرما اولی نے کہا کہ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے، بھارت اس علاقے سے فوری طور پر اپنی فوجیں ہٹا لے، ہم اپنی ایک انچ زمیں بھی کسی کے قبضے میں رہنے نہیں دیں گے۔ ہم بھارتی نقشے کو مسترد کرتے ہیں۔ ادھر بھارت نے موقف اختیار کیا ہے کہ نئے سرکاری نقشے میں کالا پانی سے متعلق کسی قسم کی چھیڑچھاڑ نہیں کی گئی ہے۔ تاہم نیپال کی حکومت، اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھارتی موقف کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے جو ایک ہفتے سے جاری ہیں

یادرہے کہ بھارتی مقبوضہ ریاست جموں کشمیر اور لداخ کو بھارت میں شامل کرنے کے بعد مودی سرکار کی جانب سے جاری نئے سرکاری نقشے میں جہاں جموں کشمیر اور لداخ کو دو یونین علاقے بنا کر بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے ویسے ہی نیپالی علاقے کالا پانی کو بھی بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

six − one =

Contact Us