اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شام میں ایسے درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو شامی حکومت اور اس کی اتحادی ایرانی فورسز کی ملکیت تھے۔ بدھ کے روز اسرائیلی فوج نےدعویٰ کیا کہ ایک ایرانی یونٹ کے راکٹ حملے کے جواب میں انھوں نے شام میں ’وسیع پیمانے پر فضائی حملے‘ کیے ہیں۔
دوسری طرف شام نے کہا ہے کہ ان حملوں میں دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ اور یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شامی فضائی فورس نے شام کے دارالحکومت کی طرف آتے زیادہ تر میزائل مار گرائے ہیں۔مقامی اطلاعات کے مطابق شہر میں بلند آواز میں دھماکے سنے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا فوٹیج میں بہت جگہ آگ لگی دکھائی دی۔
یاد رہے کہ منگل کی صبح اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ انھوں نے شام کی طرف سے اسرائیل میں آنے والے چار راکٹ مار گرائے ہیں جو ان کی زمین پر نہیں گرے۔بدھ کو اسرائیلی دفاعی فورسز نےاپنے ٹویٹ میں کہا کہ فضائی حملوں سے ایران کی قدس فورس اور شامی فوج کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا ’شامی حکومت اپنے علاقے میں ہونے والے واقعات کی ذمہ دار ہے۔ ہم انھیں اسرائیل پر مزید حملے کے خلاف متنبہ کرتے ہیں۔
شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا نے کہا ہے کہ ملک کی ’فضائی فورس نے بڑے حملے کا مقابلہ کیا اور دشمن کے حملےکو ناکام بنایا۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ شام نے اسرائیل کے ’اکثر‘ میزائل مار گرائے ہی۔خبر رساں ادارے نے مزید کہا کہ فضائی حملے ’لبنانی اور فلسطینی علاقوں‘ سے کیے گئِے۔
برطانیہ میں موجود مانیٹرنگ گروپ سرئین آبزرویٹری گروپ کے مطابق 11 فائٹر جن میں سات غیر ملکی بھی شامل تھے اس حملے میں ہلاک ہوئے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میزائلوں نے دمشق کے نواح میں قصویٰ، ساسہ، میزح کے ملٹری ائیرپورٹ، جیدات، قدسیہ اور سہنایہ میں حملے کیے ہیں۔ جبکہ ایران کی جانب سے اب تک اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
