برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پینوراما نے چین کی انتہائی سکیورٹی والی جیلوں کے نیٹ ورک میں ہزاروں مسلم اویغوروں کے زبردستی ذہنی خیالات تبدیل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔چین کی جیلوں کے نیٹ ورک کے بارے میں لیک ہونے والی سرکاری دستاویزات میں ملنے والی تفضیلات سے پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ چین ایک منظم طریقہ کارکے ذریعے مسلم اویغوروں سمیت دیگر قیدیوں کی سوچ کو زبردستی تبدیل‘ کر رہا ہے۔
چینی حکومت نے مسلسل یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دور دراز کے مغربی سنکیانگ خطے میں قائم ان مراکز میں رضاکارانہ طور پر تعلیم اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔
لیکن سرکاری دستاویزات، جو بی بی سی پینوراما نے دیکھی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ قیدیوں کو کیسےان جیلوں میں قید رکھا جاتا ہے، کیسے ان کو سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے اور ان کو کس طرح کی سزائیں دی جاتی ہیں۔
تاہم برطانیہ میں چین کے سفیر نے دستاویزات کو جعلی خبر قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
