Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

فرانس کے صدر عمانوئیل میکرون دہشت گردی کے سپانسر ہیں ۔ ترک وزیر خارجہ

ترکی کے وزیر خارجہ نے فرانسیسی صدر ایمنیوئل میکرون پر ‘دہشت گردی کو سپانسر’ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے یہ بیان شام میں ترکی کے حملوں پر فرانسیسی صدر کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے دیا ہے۔میولت چووشولو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا میکرون یورپ کے لیڈر بننا چاہتے تھے جس میں وہ ناکام ہو گئے ہیں۔

گذشتہ ماہ میکرون نے اس وقت ترکی کو ناراض کیا تھا جب فرانس نے شامی ڈیموکریٹک فورس کے ایک افسر کی میزبانی کی تھی۔ ےاد رہے کہ ترکی اس تنظیم کے ایک حصے کو دہشت گرد گردانتا ہے۔

ترکی اور فرانس کے درمیان یہ جھگڑا برطانیہ میں نیٹو ممالک کے اہم اجلاس سے ایک ہفتے پہلے ہوا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کو میکرون نے کہا تھا کہ وہ تین ہفتے قبل دیے گئے اپنے بیان پر قائم ہیں جب انھوں نے نیٹو کو ‘ذہنی طور پر مردہ’ قرار دیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ نیٹو کے ممبر ممالک کو بیداری کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے اہم معاملات پر یہ ممالک آپس میں مشاورت نہیں کر رہے۔انھوں نے ترکی کے شمالی شام میں فوجی حملے پر نیٹو کی خاموشی پر بھی تنقید کی

جمعرات کو پارلیمان میں صحافیوں سے گفتگو میں ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘میکرون پہلے ہی دہشت گرد تنظیم کو سپانسر کر رہے ہیں۔ اگر وہ دہشت گرد تنظیم کو اپنا اتحادی کہتےہیں تو پھر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔انھوں نے مزید کہا کہ ‘ابھی یورپ میں ایک خلاء ہے۔ میکرون یورپ کے لیڈر بننا چاہتے ہیں۔ لیکن لیڈر شپ قدرتی ہوتی ہے۔’

یاد رہے کہ ترکی اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات تب سے خراب ہیں جب سے انقرہ نے روس سے رواں برس کے آغاز میں زمین سے فضا میں نشانہ بنانے والے ایس 400 میزائل سسٹم کو خریدا ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

6 + eighteen =

Contact Us