تھینکس گونگ ڈے کے موقع پر صدر ٹرمپ اچانک افغانستان پہنچ گئے جہاں انھوں نے امریکی فوجیوں سے خطاب بھی کیا اور افغان صدر اشرف ٖنی سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر انھوں نے افغان طالبان سے اڑھائی ماہ سے تعطل کا شکار امن مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا ۔ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے امن مذاکرات کی بحالی کے اعلان کے بعد طالبان نے بھی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں سال ستمبر کے دوران مذاکرات اس وقت معطل ہو گئے تھے جب امریکی صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ہم افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کر رہے ہیں، کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات بھی منسوخ ہو گئی ہے، مذاکرات معطل ہونے کی وجہ ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت گیارہ افراد ہلاک ہونا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان کے اچانک دورے کے دوران انہوں نے افغان طالبان کیساتھ مذاکرات بحال کر دیئے ہیں۔افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران امریکی صدر نے افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے طالبان کو امن معاہدے کے لئے ایک اور موقع دینے پر اتفاق کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ اڑھائی گھنٹے تک افغانستان کی سرزمین پر رہے، انہوں نے تھینکس گونگ ڈے کے موقع پر کیے گئے اس دورے میں امریکی فوجیوں کے ساتھ ڈنر بھی کیا۔
قطر میں موجود طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امریکہ سے افغان امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کو تیارہیں۔ مذاکرات وہیں سے شروع کئے جائیں گے جہاں ختم ہوئے تھے۔غیرملکی خبرایجنسی سے گفتگومیں ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دوحہ میں سینئرامریکی حکام سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اورباضابطہ امن مذاکرات جلد شروع کئے جائیں گے۔
امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان امن معاہدے میں سنجیدہ ہیں تو جنگ بند کرنا ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان سے باہر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنا ہوں گے۔
جنرل مارک ملی نے کہا کہ ٹرمپ کا افغانستان میں فوجیوں کی تعداد ساڑھے 8 ہزار تک لانے کا منصوبہ ہے۔ امید ہے انٹرا افغان بات چیت جلد شروع ہوجائےگی۔
