Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

روس کا آرکٹیک میں ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ

روسی خبررساں ایجنسی ٹاس نے ہفتے کے روز دو عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس نے مِگ 31 لڑاکا جیٹ کے ذریعے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہائپر سانک میزائل کنجال (خنجر) کا آرکٹک میں تجربہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل ڈنمارک کی انٹیلی جنس سروس نے کرۂ ارض کے بحرمنجمد شمالی میں جغرافیائی سیاسی مخاصمت میں شدت پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین کی فوج بھی قطب شمالی(آرکٹک) میں گھسنے کے لیے سائنسی تجربات کررہی ہے۔

ٹاسکے مطابق روس نے ہائپر سانک میزائل کا تجربہ نومبر کے وسط میں کیا تھا۔مِگ 31-کے نے شمالی علاقے مرمنسک میں واقع اولنگورسک ائیر فیلڈ سے اڑان بھری اور روس کے آرکیٹک کومی ریجن میں واقع پیمبوئی تربیتی مرکز میں ایک زمینی ہدف کو نشانہ بنایا تھا۔

ڈنمارک کی ڈیفنس انٹیلی جنس نے جمعہ کو اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ روس ، امریکہ اور چین کے درمیان علاقے میں طاقت کا ایک بڑا کھیل شروع ہوچکا ہے اور اس سے قطبِ شمالی میں کشیدگی بھی بڑھ چکی ہے۔

روسی صدر نے 2018ء میں مختلف ہتھیاروں کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔ ان میں ہائپر سانک گلائیڈ گاڑی ، جوہری ہتھیار سے لیس زیرِ آب ڈرون اور جوہری ہتھیار سے لیس کروز میزائل شامل ہیں۔ اور کہا تھا کہ ان جدید ہتھیاروں سے روس ناقابلِ تسخیر ہوگیا ہے اوروہ دشمن کے دفاع سے بچنےکی صلاحیت کا حامل ہے۔صدر پوتن نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ روس کے نئے ہتھیاروں کا کسی ملک کے پاس کوئی توڑ نہیں البتہ روس ان ہتھیاروں کو کسی ملک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

روسی میڈیا کے مطابق کنجال دو ہزار کلومیٹر ( میل 1250) تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور روایتی اور جوہری ہتھیار ہدف تک لے جاسکتا ہے۔یہ میزائل روسی فوج کی جنوبی کمان کے حوالے کیے جاچکے ہیں۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

9 + 19 =

Contact Us