العریبیہ نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن انتظامیہ عراقی ذمے داران پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ان پابندیوں کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں کر دیا جائے گا۔
یہ پیش رفت عراق کے جنوبی صوبوں میں عوامی احتجاج کے خلاف تشدد کے واقعات کے بعد سامنے آئی ہے۔ واضح رہے کہ جنوبی صوبوں میں ایک دن کے اندر درجنوں مظاہرین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ”امریکہ اپنا قانونی اختیار استعمال کرے گا تا کہ عراقیوں کی دولت لوٹنے والی بدعنوان شخصیات اور مظاہرہ کرنے والے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے والوں پر پابندیاں عائد کی جا سکیں”۔اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شنکر نے اُن پابندیوں کا عندیہ دیا تھا جو واشنگٹن کی جانب سے عراق میں “جابر عہدے داران” کے خلاف لگائی جا سکتی ہیں۔۔
ادھر بغداد میں تحریر اسکوائر پر موجود طبی کارکنان کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نامعلوم عناصر نے جمعرات کی صبح مظاہرین کے خلاف چاقو مارنے کی کارروائیاں کیں۔دوسری جانب عراق کے صدر برہم صالح نے شام کے لیے امریکی ایلچی جیمز جیفری اور عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر سے ملاقات کی۔ اس دوران خطے کی تازہ صورت حال اور عراق کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کے طریقہ کار پر بھی بات چیت ہوئی۔
