قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات 7 ستمبر کو شروع ہوئے تھے جو آج بھی جاری رہیں گے۔
اس سے پہلے امریکہ اور افغان طالبان کی جانب سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی کے بعد امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا اشارہ دیا تھا جس کے بعد امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زالمے خلیل زاد نے افغانستان کا دورہ کیا اور پھر وہ وہاں سے قطر پہنچے۔
افغان میڈیا کے مطابق مذاکرات کے پہلے روز فریقین کے درمیان 4 گھنٹے کی طویل تشست ہوئی جس میں تشدد میں کمی لانے، انٹرا افغان مذاکرات اور جنگ بندی پر بات چیت ہوئی۔
یادرہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس ستمبر میں گزشتہ ایک سال سے جاری مذاکرات معاہدے پر دستخط ہونے سے قبل منسوخ کر دیئے تھے۔
