Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

کِم جونگ اُن بازآجاؤ ، ورنہ سب کچھ کھو سکتے ہو: صدر ٹرمپ کی دھمکی

امریکی صدر نے شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کی دشمنی میں سب کچھ کھوبیٹھیں گے۔خیال رہے کہ صدرٹرمپ نے یہ دھمکی آمیز بیان شمالی کوریا کے کسی نئے بڑے ہتھیار کے تجربے کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔
شمالی کوریا کی اکیڈیمی برائے نیشنل ڈیفنس سائنس کے ترجمان نے ہفتے کے روز تصدیق کرتے ہوئےایک بیان میں کہا تھا کہ ہفتے کے روز سوہائی خلائی مرکز سے بہت اہم تجربہ کیا گیا ہے جس سے شمالی کوریا کی ’’تزویراتی پوزیشن‘‘ کو تبدیل کرنے میں اہم پیش رفت ہو سکے گی ۔تاہم اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ تجربہ کہاں اور کس ’’اہم ہتھیار‘‘ کا کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے اس تجربے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’کِم جونگ اُن بہت ہوشیار بنتے ہیں، انھیں اسی حساب سے بہت کچھ کھونا پڑےگا۔ اوراگر وہ اسی معاندانہ طرز عمل کو جاری رکھتے ہیں تو وہ ہر چیز کھودیں گے ،، ۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور کِم جونگ ان کے درمیآن 2017ء میں کئی ماہ تک ایک دوسرے خلاف توہین آمیز بیانات جاری کرتے رہنے سے دونوں ملکوں میں سخت تناؤ پیدا ہوگیا تھا لیکن حکام کی سفارتی کوششوں کے بعد جون 2018ء میں ٹرمپ اور کم جونگ کے درمیان سنگاپور میں پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی البتہ اس میں کوریا کے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

صدر ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ ’’کِم نے جون 2018ء میں سنگاپور میں ملاقات کے موقع پر جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے لیے ایک مضبوط سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔کِم جونگ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ’’ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ خصوصی تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے اور امریکہ میں نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔‘‘

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

4 × 2 =

Contact Us