امریکہ کے منع کرنے کے باوجود ترکی نےروس سے ایس۔400 میزائل سسٹم خریدا اور شام میں آپریشن بھی جاری رکھا جس کی وجہ سے امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی طرف سے ترکی کے خلاف پابندیوں پر مبنی آئینی بِل پیش کیے جا نے کی توقع ہے بل پر ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے سخت الفاط میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کانگریس میں جاری مرحلے پر بغورنظررکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ بل منظور ہو یا نہ ہو ، ایس۔400 کی خرید کا مرحلہ جاری رہے گا۔ ایس۔400 کی خرید کے معاملے میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔امریکہ کے ساتھ ایف۔35 کے معاملے میں درپیش صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے قالن نے کہا ہے کہ “افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ موضوع اس وقت تکنیکی یا پھر دفاعی صنعت کا موضوع نہیں رہا بلکہ مکمل طور پر امریکہ کی داخلی سیاست کا موضوع بن چکا ہے۔
ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ ترکی، ایس ۔400 کے ساتھ ایف ۔35 ، نیٹو سکیورٹی سسٹم ،ایف۔16 یا پھر کوئی اور جنگی طیاروں کا سسٹم استعمال کرے گا تو یقیناً اس کے لئے ضروری دستور العمل بھی تیار کرے گا۔
صدارتے ترجمان نے مزید کہا کہ صدر رجب طیب اردوگان بھی کو۔چئیرمین کی حیثیت سے فورم میں شرکت کریں گے اور شام میں سیف زون کی تشکیل اور مہاجرین کی محفوظ شکل میں اپنے گھروں کو واپسی کے موضوعات پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ بھی ا ور مہاجرین کے ہائی کمشنر کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔ قالن نے کہا ہے کہ ہم، اقوام متحدہ کے طے شدہ تین بنیادی اصولوں کے مطابق بحفاظت، رضاکارانہ اور باوقار شکل میں مہاجرین کی واپسی کویقینی بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔
