جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے شریک سربراہ روبرٹ ہابیک نے مطالبہ کیا ہے کہ یونان سے ہزارہا تارکین وطن کو جرمنی لایا جائے۔ انہوں نے اخبار فرانکفرٹر الگمائنے میں آج شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ یونانی جزائر انتہائی تشویش ناک حد تک تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد سے بھرے ہوئے ہیں۔ بحیرہ ایجیئن کے علاقے میں یونان کے لیسبوس، شئیوس، ساموس اور کوس جیسے جزائر پر اس وقت اکتالیس ہزار سے زائد تارکین وطن کو مختلف کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے۔ ان میں چار ہزار کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔ ہابیک نے کہا کہ سب سے پہلے یہ ہزاروں تارکین وطن بچے ان جزائر پر بہت تکلیف دہ حالات سے نکال کر جرمنی لائے جانا چاہییں۔
واضح رہے کہ ایک تازہ عوامی جائزے میں پہلی بار جرمنی کی گرین پارٹی کی عوامی مقبولیت چانسلر انجیلا مرکل کے قدامت پسند اتحادی بلاک سے زیادہ دیکھی گئی ہے۔ جرمن نشریاتی اداروں کی جانب سے فورسا انسٹیٹیوٹ کے ذریعے مکمل کیے گئے ایک جائزے میں کہا گیا ہےکہ گرین پارٹی کی مقبولیت میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب اسے ستائیس فیصد جرمن شہریوں کی حمایت حاصل ہے
