Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

ہزاروں تارکین وطن کو یونان سے جرمنی لایا جائے. گرین پارٹی کے سربراہ رابرٹ ہابیک کا مطالبہ

جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے شریک سربراہ روبرٹ ہابیک نے مطالبہ کیا ہے کہ یونان سے ہزارہا تارکین وطن کو جرمنی لایا جائے۔ انہوں نے اخبار فرانکفرٹر الگمائنے میں آج شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ یونانی جزائر انتہائی تشویش ناک حد تک تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد سے بھرے ہوئے ہیں۔ بحیرہ ایجیئن کے علاقے میں یونان کے لیسبوس، شئیوس، ساموس اور کوس جیسے جزائر پر اس وقت اکتالیس ہزار سے زائد تارکین وطن کو مختلف کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے۔ ان میں چار ہزار کے قریب بچے بھی شامل ہیں۔ ہابیک نے کہا کہ سب سے پہلے یہ ہزاروں تارکین وطن بچے ان جزائر پر بہت تکلیف دہ حالات سے نکال کر جرمنی لائے جانا چاہییں۔

واضح رہے کہ ایک تازہ عوامی جائزے میں پہلی بار جرمنی کی گرین پارٹی کی عوامی مقبولیت چانسلر انجیلا مرکل کے قدامت پسند اتحادی بلاک سے زیادہ دیکھی گئی ہے۔ جرمن نشریاتی اداروں کی جانب سے فورسا انسٹیٹیوٹ کے ذریعے مکمل کیے گئے ایک جائزے میں کہا گیا ہےکہ گرین پارٹی کی مقبولیت میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب اسے ستائیس فیصد جرمن شہریوں کی حمایت حاصل ہے

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

three × three =

Contact Us