ہانگ کانگ میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے اتوار کو چین کے صوبہ سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے یغور مسلمانوں کے حق میں پُرامن ریلی نکالی ہے۔انھوں نے یغور پرچم اور پوسٹرز اٹھارکھے تھے۔مظاہرین میں نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ شامل تھےجنھوں نے سیاہ لباس پہن رکھے تھے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے نقاب اوڑھ رکھے تھے۔مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’’یغور کو آزاد کرو‘‘،ہانک کانگ کو آزاد کرو اور چین میں جعلی خود مختاری کا نتیجہ نسل کشی‘‘ ہے۔
یاد رہے کہ یغور مسلمانوں کے حق میں یہ مظاہرہ برطانیہ کی فٹ بال ٹیم آرسینل کے کھلاڑی مسعود اوزل کی طرف سے چین کی پالیسیوں پرکی گئی تنقید کے بعد کیا گیا ہے۔انھوں نے سوشل میڈیا پر یغوروں کے حق میں بیانات دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین کے جنوب مغربی صوبہ سنکیانگ میں مسلم اقلیت سے ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ ’’یغور جنگجو ہیں اور وہ جبر واستبداد کی مزاحمت کررہے ہیں‘‘۔انھوں نے چین کو سنکیانگ میں سخت کارروائیوں اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں کو اس پر خاموشی پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ہانگ کانگ میں مظاہرے میں اپنے خاوند کے ساتھ شریک وانگ نامی خاتون کا کہنا تھا کہ ’’میرے خیال میں بنیادی آزادی اور حرّیت تمام لوگوں کے لیے موجود رہنی چاہیے صرف ہانگ کانگ کے لوگوں ہی کے لیے نہیں۔‘‘ان کا اشارہ ہانگ کانگ میں گذشتہ سات ماہ سے آزادی کے حق میں جاری مظاہروں کی جانب تھا یاد رہے کہ ہانگ کانگ کے شہری چین سے مکمل خود مختاری کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ 2017ء کے بعد سے چین میں کم سے کم دس لاکھ یغوروں یا دوسرے مسلم اقلیتی گروپوں کو گرفتارکرکے حراستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔امریکہ اور دوسرے ممالک نے چین کی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے جبکہ چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی حراستی کیمپ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تربیت کے کیمپ ہیں،وہاں لوگوں کو نئے ہُنر اور مہارتیں سکھائی جارہی ہیں اور انھیں علیحدگی پسندی کے رجحان کی بیخ کنی کی بھی تربیت دی جارہی ہے۔ چین یغور مسلمانوں سے ناروا سلوک کی بھی تردید کرتا ہے۔
