بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں انتہا پسند ہندو کارکنوں کے حملے میں درجنوں طلبہ زخمی ہو گئے۔
بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری سیتارام یچوری نے الزام لگایا کہ ’حملے کے پیچھے انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹوڈنٹ ونگ ’اکھل بھارتیہ ودھارتھی پریشاد‘ (اے بی وی پی) کے غنڈوں کا ہاتھ ہے۔‘ جبکہ یونیورسٹی کےطلبہ کا بھی دعویٰ ہے کہ اس حملے میں وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کا سٹوڈنٹ ونگ ملوث ہے۔
دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی نے واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ جبکہ بی جے پی کی طلبہ تنظیم ’اکھل بھارتیہ ودھارتھی پریشاد نے ایک بیان میں کہا کہ کیمپس حملے کے دوران اس کے 25 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔
اخبار کے مطابق 50 سے 70 حملہ آور ’غداروں کو گولی مارو‘، ’وندے ماترم‘ اور ’جے شری رام‘ جیسے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے طلبہ پر لوہے کی سلاخوں اور ہتھوڑوں سے پل پڑے جس کے بعد درجنوں طلبہ کو زخمی حالت میں آل انڈیا انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منقتل کیا گیا۔سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں اور ہتھوڑوں سے مسلح نقاب پوش حملہ آور کیمپس کے ہاسٹلز پر دھاوا بول رہے ہیں اور طلبہ خوف سے چلا رہے ہیں۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس حملے میں 30 سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے، جن میں جے این یو سٹوڈنٹ یونین کی صدر آئشی گھوش بھی شامل ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کی شب ہونے والے حملے کے حوالے سے مقامی پولیس نے بتایا کہ یہ دو مخالف طلبہ تنظیموں کے درمیان جھگڑا تھا۔تاہم طلبہ کا الزام ہے کہ اس حملے میں وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا سٹوڈنٹ ونگ ملوث ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری سیتارام نے اے ایف پی کو بتایا کہ’یہ حملہ اقتدار پر قابض لوگوں نے منصوبہ بندی کے تحت کیا ہے جو یونیورسٹی کی جانب سے طلبہ کو دی گئی اظہارِ رائے کی آزادی سے خائف ہیں۔‘
یہ واقعہ بھارت میں پرتشدد جھڑپوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جب کہ دسمبر میں مودی حکومت کے منظور کردہ متنازع شہریت بل کے خلاف احتجاج کے دوران کم از کم دو درجن افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ دہلی کے دیگر مقامات پراور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر بھی احتجاج جاری ہے جہاں سینکڑوں نوجوان شہریت کے قانون کے خلاف گذشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا شمار ملک کی سب سے معتبر جامعات میں ہوتا ہے جو اپنے سیکیولر تشخص اور آزادی رائے کے باعث اکثر انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر رہتی ہے۔
