عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین میں نمونیے کے پچاس سے زائد کیسز کے درپردہ سارس اور میرس سے تعلق رکھنے والا ایک نیا وائرس ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق اس سلسلے میں تفصیلی تفتیش کی ضرورت ہے، تاہم امکان ہے کہ اس تازہ وبا کے درپردہ کورانا وائرس ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ نیا وائرس انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔اس سے نمونیا یعنی سرسام ہوجاتا ہے اور گردے فیل ہو نے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جمعرات کے روز چینی سرکاری نیوز ایجنسی شہنوا نے کہا تھا کہ ماہرین کی جانب سے عبوری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دسمبر میں وسطی چین میں نمونیے کے پچاس سے زائد واقعات کی وجہ کورونا وائرس کی ایک نئی قسم تھی۔ یہ بات اہم ہے کہ اب تک وسطیٰ چینی شہر ووہان میں دسمبر سے اب تک نمونیے کے 59 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2012 کے بعد سے اب تک یورپ اور مشرق وسطی میں 33 افراد اس وائرس کے شکار ہوئے جن میں سے 18 افراد کی موت واقع ہو گئی۔ صحت کے عالمی ادارے نے اتوار کواپنے ایک بیان میں کہا: ’سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ حقیقت ہے کہ اب تک اس کورونا وائرس کے مختلف کلسٹر مختلف ممالک میں پائے گئے ہیں اور یہ مفروضہ درست نظر آتا ہے کہ یہ نیا وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو سکتا ہے جو آپس میں کافی نزدیک رہتے ہیں۔‘
