شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ جو کہ داعش کے نام سے بھی معروف ہے نے ایران کی القدس فورس کے سربراہ کمانڈرجنرل قاسم سلیمانی کی موت کا خیرمقدم کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں داعش کے ترجمان نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو ایک ’خدائی مدد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دولت اسلامیہ اور جہادیوں کو فائدہ ہوا ہے۔ یہ شدت پسندوں کے لیے اچھی خبر ہے کہ عراقی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں فوری طور پر ملک بھر سے امریکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سلیمانی کی موت کے بعد سے امریکہ نے عراق میں فوجیوں کو تربیت دینے اور داعش کے خلاف کاروائیاں کرنے کا عمل روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی اور ڈنمارک بھی انھیں اب تربیت نہیں دے رہے۔ دولت اسلامیہ کے لیے یہ بھی ایک خوشی کی خبر تھی کہ امریکی صدرٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ کیا اوریہ ان کے لیے اپنے ایک دشمن (ٹرمپ) کی جانب سے تحفتاً دوسرے دشمن (سلیمانی) کو مرتا دیکھنے کا تماشہ بھی تھا۔
تاہم شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ نے اپنے بیان میں امریکہ کا کوئی ذکر نہیں کیا جس نے 3 جنوری کو بغداد میں ایک ڈرون حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا تھا۔ اور نہ ہی البغدادی کے حوالے سے کوئی ذکر تھا
واضح رہے کہ سلیمانی کی موت کے بعد فوری طور پر عراق میں امریکی اتحادیوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف اپنی کارروائیاں روک دی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھی اعلان کیا کہ اب ان کا کام اپنا دفاع کرنا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ داعش کے لیے اچھی خبر ہے اور ایسے میں وہ تیزی کے ساتھ اپنی اس ’خلافت‘ کے قیام کے عمل کو بحال کر سکیں گے جسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مل کرنیست و نابود کر دیا تھا
