پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے اپنے فوجی انخلا کے بعد بھی ہندوکش کی اس ریاست کی تعمیر نو کے عمل میں شامل رہنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے حالیہ دورہ ایران و سعودی عرب کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ افغانستان کی جنگ امریکہ کی آج تک کی طویل ترین جنگ بن چکی ہے۔ ان دنوں دوحہ میں افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران کہا کہ افغانستان سے اپنے آئندہ فوجی انخلا کے بعد بھی امریکہ کا اس ملک کی تعمیر نو اور وہاں استحکام کے عمل میں شامل رہنا ناگزیر ہو گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات بھی کر رہے ہیں۔
وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ تاریخی اعتبار سے جنوبی ایشیائی خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کاوشیں ہمیشہ سود مند ثابت ہوئی ہیں اور دونوں ممالک کے لیے یکساں مفید رہی ہیں، وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے جامع دو طرفہ پاک امریکہ تعلقات کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
