Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

فوجی انخلا کے بعد بھی امریکہ کو افغان تعمیر نو میں شامل رہنا چاہیے۔ پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے اپنے فوجی انخلا کے بعد بھی ہندوکش کی اس ریاست کی تعمیر نو کے عمل میں شامل رہنا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی  نے اپنے حالیہ دورہ ایران و سعودی عرب کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے  اور خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم  ہے۔ افغانستان کی جنگ امریکہ کی آج تک کی طویل ترین جنگ بن چکی ہے۔ ان دنوں دوحہ میں افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران کہا کہ افغانستان سے اپنے آئندہ فوجی انخلا کے بعد بھی امریکہ کا اس ملک کی تعمیر نو اور وہاں استحکام کے عمل میں شامل رہنا ناگزیر ہو گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات بھی کر رہے ہیں۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ تاریخی اعتبار سے جنوبی ایشیائی خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کاوشیں ہمیشہ سود مند ثابت ہوئی ہیں اور دونوں ممالک کے لیے یکساں مفید رہی ہیں، وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے جامع دو طرفہ پاک امریکہ تعلقات کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

14 − 6 =

Contact Us