فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطا بق گذشتہ جمعے کو امریکی حکومت کی جانب سے جدید اور خود تباہ ہوجانے والی بارودی سرنگوں کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ محفوظ ہیں
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ روایتی بارودی سرنگیں جن کو بچھانے کے بعد انہیں بے اثر اور تباہ نہیں کیا جاسکتا، ان پر اب بھی پابندی ہوگی۔پینٹا گون کے مطابق نئی اور جدید بارودی سرنگیں 30 دن کے بعد خود بخود تباہ ہوجائیں گی جب کہ ضرورت پڑنے پر انہیں اپنی مرضی کے وقت کم از کم 2 گھنٹوں میں بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔
خیال رہے کہ 160 سے زائد ممالک اوٹاوا کنونشن پر دستخط کرچکے ہیں جو کہ ان ممالک کو بارودی سرنگوں کے خاتمے کےلیے اقدامات کرنے کا پابند بناتا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین نے امریکی صدر کی جانب سے بارودی سرنگوں کے استعمال پر عائد پابندی اٹھانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے اپنے ایک بیان میں امریکی صدر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارودی سرنگوں کا استعمال چاہے جو بھی کرے ، کسی بھی جگہ اور کسی بھی موقع پر کرے ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔امریکی حکومت کی جانب سے جان لیوا بارودی سرنگوں کے خلاف ان عالمی اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے جن کی وجہ سے گذشتہ 20 سالوں میں ہزاروں افراد کی زندگیاں محفوظ ہوئیں۔
یورپی یونین کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ تباہ کن بارودی سرنگوں سے متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا باردوی سرنگوں کی صفائی کی مہم میں ہمارا اہم اتحادی ہے لیکن امریکی پالیسی میں تبدیلی کے باعث مہم پر اس کے منفی اثرات پڑیں گے۔
فرانسیی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے 1991 کی خلیج جنگ کے بعد سے بارودی سرنگوں کا استعمال نہیں کیا ہے۔
