آسٹريلوی فوجیوں کی افغانستان میں نقل و حمل اور فوجیوں کے مقامی لوگوں کے ساتھ معاملات پر نظر رکھنے والے ايک واچ ڈاگ نے بتايا ہے کہ ملکی افواج کی افغانستان ميں تعيناتی کے دوران پچپن ايسی کارروائيوں کے خلاف تفتيش کی جارہی ہے، جو ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے ميں آ سکتی ہيں اور فوجیوں کو ان جرائم پر سخت سزائیں سنائی جا سکتی ہیں ۔
واضح رہے کہ آسٹريلوی انسپکٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ ميں ایسے کئی واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جو عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزی شمار ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات ميں مبينہ طور پر غير قانونی ہلاکتیں بھی شامل ہيں۔ ایسے کئی واقعات کی چھان بین 2016ء سے کی جارہی ہے۔ جج پال بريريٹن اس سلسلے میں اب تک تين سو سے زائد افراد کی گواہیاں سن چکے ہيں۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ بطور جج جلد ہی اپنے فيصلے تک پہنچنے والے ہيں۔
