اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے امن معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے امن معاہدے کی توثیق کے لیے قرارداد جمع کرائی تھی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔قرارداد میں امن معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے افغان متحارب گروپوں کے عزم اور جامع سیز فائر کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس قرارداد میں امن عمل یقینی بنانے کے لیے انٹرا افغان مذاکرات پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا آغاز ہو گیا ہے۔
اس سے پہلےافغان صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کر دیا تھا جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب صدر غنی نے 1500 طالبان قیدیوں کی رہائی کے پروانے پر دستخط کر دیئے ہیں۔واضح رہے کہ افغان طالبان نے معاہدے کے تحت اپنے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کی فہرست امریکہ کے حوالے کی تھی۔
فروری قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس میں طے پایا تھا کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج 14 ماہ میں مکمل طور پر نکل جائیں گی اور طالبان امریکی اور غیر ملکی افواج کو نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کریں گے۔مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی کمانڈر جنرل فرینک میکینزی نے امریکی کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کوکہا ہے کہ طالبان کے حملے معاہدے میں طے پانے والے اعداد و شمار سے زیادہ ہیں لہذا ایسی صورت حال میں افغانستان سے مکمل فوجی انخلاء نہ کیا جائے۔
ادھر گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے دو مختلف تقاریب میں افغان صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جس سے افغانستان میں ایک نئی سیاسی چپقلش کا آغاز ہو گیا ہے اور امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والا معاہدے بھی خطرات کا شکار ہو سکتا ہے۔
