غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ان خواتین رکنِ کانگریس کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جن میں سے زیادہ تر امریکہ میں ہی پیدا ہوئیں۔
ٹرمپ نے لکھا کہ واپس اپنے پسماندہ ملکوں میں جائیں ،ان علاقوں کی مدد کریں جہاں سےآپ آئی ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ بہت دلچسپ لگتا ہے جب ترقی پسند ڈیموکریٹک خواتین ارکان کانگریس جو درحقیقت نہایت پسماندہ ممالک سے آئی ہیں وہ ڈھٹائی سے امریکا کے لوگوں کو بتارہی ہیں کہ ہماری حکومت کو کیسے چلایا جائے۔ٹرمپ کا اشارہ الیگزینڈرا کورٹیز، الہان عمر، ایانہ پرسلی او رشیدہ طلیب کی طرف سمجھا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ ان خواتین ارکان کانگریس کا گروپ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتا رہا ہے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ کے بیان کو نسل پرستی سے تعبیر کرکے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ٹرمپ کی ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن کانگریس الیگزینڈرا کورٹیز نے کہا کہ مسٹر پریزیڈنٹ وہ ملک جہاں سے میں آئی ہوں اور وہ ملک جس کا ہم حلف لیتے ہیں وہ امریکا ہے۔انہوں نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس لیے خفا ہیں کہ ہمیں شامل کرکے امریکا کا تصور نہیں کرسکتے، آپ اپنے تخت کے لیے ایک دہشت زدہ امریکا پر بھروسہ رکھتے ہیں۔
کیلی فورنیا کی ڈیموکریٹ ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی نے امریکی صدر کے بیان پر ڈیموکریٹکس کا دفاع کیا اور ٹرمپ کے بیان کو غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی قرار دیا۔
