ترکی اور روس نے کرد فورسز کو ترکی سے ملحقہ شام کی سرحد سے دور رکھنے کے معاہدے کو تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے۔اس دس نکاتی معاہدے کے تحت روسی اور شامی افواج اس بات کی نگرانی کریں گی کہ کرد فورسز وہاں سے فوری نکل جائيں۔ اس معاہدے کے تحت آئندہ ہفتے ترکی اور روس کا سرحد کی مشترکہ نگرانی کا منصوبہ ہے۔
واضح رہے کہاس معاہدے کا اعلان منگل کو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان بحر اسود کے شہر سوچی میں چھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد کیا گیا جس کے تحت کرد جنگجوؤں کو بدھ کی دوپہر سے 150 گھنٹے دیے گئے ہیں کہ وہ سرحد سے 30 کلومیٹر دور پیچھے ہٹ جائيں یعنی کہ منبج کے مشرق میں دریائے فرات کے تقریباً تمام حصے کو خالی کرکے عراق کی سرحد کی طرف چلے جائیں۔
ترکی کے ساتھ معاہدے کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن نے شام کے صدر بشارالاسد سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انھیں اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ جس پر شام کے صدر بشارالاسد نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس میں اہم کردار ادا کرنے پر روسی صدر پوتن کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔
