امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ہونے والی تحقیقات پر موجودہ ہفتے پہلی باضابطہ ووٹنگ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ایوانِ نمائندگان کی سپیکر اور ڈیموکریٹک رہنما نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ یہ ووٹنگ ‘صدر اور ان کے وکیل کے لیے آئندہ ہونے والی کاروائی کے حقوق کا تعین کرے گی۔ جبکہ صدر اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ پورے ایوان کی طرف سے ووٹ نہ ملنے پر تحقیقات غیر قانونی ہو جائیں گی ۔
واضح رہے کہ ایوان نمائندگان ان دعوؤں کی تحقیقات میں مصروف ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف تحقیقات شروع کروانے کے لیے یوکرین کی حکومت پر دباؤ استعمال کیا تھا یا نہیں۔
نینسی پلوسی اور دیگر ڈیموکریٹ رہنماؤں کی جانب سے آئندہ جمعرات کو پلان کی گئی ووٹنگ صدر کے مواخذے کے لیے نہیں بلکہ مواخذے کے لیے ہونے والی تحقیقات کے لیے بنیادی اصول و ضوابط بنانے کے لیے ہے۔اس اعلان سے قبل طاقتور ترین ڈیموکریٹک رہنما نینسی پلوسی ریپبلیکنز کی جانب سے اس نوعیت کی باضابطہ ووٹنگ کے مطالبے کی تردید کرتی رہی ہیں۔
تاہم پیر کے روز ڈیموکریٹک رہنماؤں کو لکھے گئے ایک خط میں انھوں نے نشاندہی کی کہ امریکی آئین کے تحت اس طرح کے اقدام کی ضرورت نہیں ہے۔
