جمعرات, April 9 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

امریکہ نے ڈالر کی قبر خود کھودی ہے۔ ذمے داری قبول کرے۔ دمتری اورلوف

مقبول کلب اورلوف بلاگ کے دیمتری اورلوف کا کہنا ہے کہ امریکہ مختلف ممالک پر مختلف قسم کی پابندیاں لگا رہا ہے جن کی وجہ سے لوگ ڈالر کے استعمال سے گریز کرنے لگے ہیں جبکہ روس اور چین اپنی تجارت اور سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اور چین دونوں کی حکمت عملی یہ ہے کہ امریکہ کو ڈالر کے خاتمے کا کام خود ہی کرنے دیں۔ اورلوف آر ٹی کی کیزر رپورٹ میں بات کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ روسی نژاد امریکی سماجی تبصرہ نگار کے مطابق ، امریکہ پابندیاں متعارف کروانے اور لوگوں کو سوئفٹ ادائیگی کے نیٹ ورک سے منقطع کرنے کی دھمکی دے کر لوگوں کی ڈالروں کے لین دین تک رسائی کو محدود کررہا ہے۔ اورلوف نے مزید کہا کہ ، “وہ بنیادی طور پر جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ” اس سلسلے میں کسی کو بھی ان کی مدد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” دریں اثنا ، روس اور چین کا مقصد باہمی تجارت کو جاری رکھنا ، دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرنا ، مقامی کرنسیوں کی بنیاد پر مختلف تجارتی کنسورشیم تشکیل دینا اور سونے کی مدد سے کرنسی کا تبادلہ کرنا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ”کوئی بھی اس بڑی متوقع مالی تباہی میں دلچسپی نہیں لے گا اور اس تباہی کا واحد ذمہ دار امریکہ ہی ہوگا۔”

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

8 + 18 =

Contact Us