آج نو نومبر کے دن ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے وہ روپ سامنے آئے جو عمومی طور پر ان کے امیج کے خلاف ہیں ۔ بھارت نےبابری مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کر کے اپنے سیکولر ہونے کا دعویٰ غلط ثابت کر دیا اور پاکستان نے سکھوں کی مقدس جگہ کرتارپور تک رہداری کھول کراپنے انسان دوست اور امن پسند ملک ہونے کا ایک اور ثبوت فراہم کر دیا
بھارت ایک ہندو اکثریتی سیکولرملک ہے اور سیکولر ہونے کے ناتے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا دعوے دار بھی ہے لیکن تقسیم ہند کے بعد سے اب تک اگر بھارتی خارجہ وداخلہ پالیسیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہندو اکثریت کسی بھی اقلیت کو بھارت میں برداشت نہیں کر پا رہی اور بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ایک خیال خام بنتا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں ،سکھوں اورعیسائیوں کےعلاوہ بھی کئی اقلیتوں کو نہ مذہبی آزادی حاصل ہے نہ جان ومال کو تحفظ اور نہ عبادت گاہیں محفوظ ہیں ۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی ، کشمیر کا نقشہ بدل دینا اوربھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کے متعلق آج سنایا جانے والا متضاد فیصلہ خود بھارتی سیکولرازم پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ عدلیہ مانتی ہے کہ آثارقدیمہ کی رپورٹ کے مطابق بابری مسجد کی جگہ رام مندر نہیں تھا لیکن پھر بھی زمین ہندوؤں کے حوالے کر کے وہاں مندر کی تعمیر کا حکم دیتی ہےاور مسلمانوں کو ان کے تاریخی ورثے سے محروم کر دیتی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو حکومت نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کے لیے مسلسل کوشاں نظر آتی ہے بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناطے بھارت کی طرف ہمیشہ خیر سگالی کا ہاتھ بڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ماضی قریب میں بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحدوں کی بار بار خلاف ورزیاں اس کی گواہ ہیں ۔ کلبھوشن یادیوجیسے دہشت گرد جاسوس تک رسائی اور ابھےنندن جیسے حملہ آور کی بھارت کو واپسی اس بات کا بین ثبوت ہیں ۔
اس سب کے باوجود آج کرتار پور راہداری کھول کر پاکستان نے نہ صرف سکھوں کے دل جیت لیے ہیں بلکہ دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے ۔ واضح رہے کہ کچھ دن پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے باباگرونانک کے 550 ویں یوم ولادت پرایک یادگاری سکہ بھی جاری کیا تھا۔ پاکستان نے انسان دوستی اور امن پسندی کا پیغام دے کر اپنے خلاف بھارت کی جانب سے پھیلایا جانے والا شدت پسندی کا جھوٹا تاثربھی ختم کرنے کی کوشش کی ہے
