جمعرات, April 9 https://www.rt.com/on-air/ Live
Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

دو ایٹمی طاقتیں اور دو بڑے فیصلے۔ بابری مسجد اور کرتار پور راہداری

آج نو نومبر کے دن ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی طاقتوں کے وہ روپ سامنے آئے جو عمومی طور پر ان کے امیج کے خلاف ہیں ۔ بھارت نےبابری مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کر کے اپنے سیکولر ہونے کا دعویٰ غلط ثابت کر دیا اور پاکستان نے سکھوں کی مقدس جگہ کرتارپور تک رہداری کھول کراپنے انسان دوست اور امن پسند ملک ہونے کا ایک اور ثبوت فراہم کر دیا

بھارت ایک ہندو اکثریتی سیکولرملک ہے اور سیکولر ہونے کے ناتے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا دعوے دار بھی ہے لیکن تقسیم ہند کے بعد سے اب تک اگر بھارتی خارجہ وداخلہ پالیسیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہندو اکثریت کسی بھی اقلیت کو بھارت میں برداشت نہیں کر پا رہی اور بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ایک خیال خام بنتا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں ،سکھوں اورعیسائیوں کےعلاوہ بھی کئی اقلیتوں کو نہ مذہبی آزادی حاصل ہے نہ جان ومال کو تحفظ اور نہ عبادت گاہیں محفوظ ہیں ۔

آرٹیکل 370 کی منسوخی ، کشمیر کا نقشہ بدل دینا اوربھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کے متعلق آج سنایا جانے والا متضاد فیصلہ خود بھارتی سیکولرازم پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ عدلیہ مانتی ہے کہ آثارقدیمہ کی رپورٹ کے مطابق بابری مسجد کی جگہ رام مندر نہیں تھا لیکن پھر بھی زمین ہندوؤں کے حوالے کر کے وہاں مندر کی تعمیر کا حکم دیتی ہےاور مسلمانوں کو ان کے تاریخی ورثے سے محروم کر دیتی ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو حکومت نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کے لیے مسلسل کوشاں نظر آتی ہے بلکہ ہمسایہ ہونے کے ناطے بھارت کی طرف ہمیشہ خیر سگالی کا ہاتھ بڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ماضی قریب میں بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحدوں کی بار بار خلاف ورزیاں اس کی گواہ ہیں ۔ کلبھوشن یادیوجیسے دہشت گرد جاسوس تک رسائی اور ابھےنندن جیسے حملہ آور کی بھارت کو واپسی اس بات کا بین ثبوت ہیں ۔

اس سب کے باوجود آج کرتار پور راہداری کھول کر پاکستان نے نہ صرف سکھوں کے دل جیت لیے ہیں بلکہ دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا  لی ہے ۔ واضح رہے کہ کچھ دن پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے باباگرونانک کے 550 ویں یوم ولادت پرایک یادگاری سکہ بھی جاری کیا تھا۔ پاکستان نے انسان دوستی اور امن پسندی کا پیغام دے کر اپنے خلاف بھارت کی جانب سے پھیلایا جانے والا شدت پسندی کا جھوٹا تاثربھی ختم کرنے کی کوشش کی ہے

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

five × four =

Contact Us