Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

برطانوی حکومت اور فوج پر عراق اور افغانستان میں ہوئے ’جنگی جرائم چھپانے‘ کا الزام

بی بی سی پینوراما اور سنڈے ٹائمزنے مشترکہ تحقیقات کےبعد برطانوی حکومت اور فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو چھپایا تھا۔ بی بی سی پینوراما اور سنڈے ٹائمز نے اس تحقیق کے سلسلے میں 11 برطانوی تفتیش کاروں سے بات کی جن کا دعویٰ ہے کہ انھیں جنگی جرائم کے مستند ثبوت ملے ہیں۔

دوسری طرف برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ حکومت نے آئی ایچ اے ٹی اور آپریشن نارتھمور کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایک وکیل فل شائنر کو ان کے عہدے سے ان الزامات کے بعد سبکدوش کیا گیا کہ انھوں نے عراق میں فکسرز کو پیسے دے کر کلائنٹ ڈھونڈے تھے۔

واضح رہے کہ یہ نئے شواہد ’عراق ہسٹورک ایلیگیشن ٹیم‘ (آئی ایچ اے ٹی) اور ’آپریشن نارتھمور‘ کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔آئی ایچ اے ٹی نے برطانوی فوج کی جانب سے عراق پر قبضے کے دوران کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کیں جبکہ آپریشن نارتھمور نے افغانستان میں کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم پر تحقیقات کی ہیں۔

فل شائنر آئی ایچ اے ٹی کے پاس ایک ہزار سے زائد اس نوعیت کے کیس لے کر گئے تھے۔لیکن آپریشن نارتھمور اور آئی ایچ اے ٹی کے سابقہ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ فل شائنر کے افعال کو جنگی جرائم سے متعلق تحقیق کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔آئی ایچ اے ٹی اور آپریشن نارتھمور کی جانب سے کی گئی تفتیش کے نتیجے میں کسی کو سزا نہیں دی گئی۔

آئی ایچ اے ٹی کے ایک تفتیش کار نے پینوراما کو بتایا کہ ’وزارتِ دفاع کا کسی بھی فوجی کو سزا دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

ایک اور سابقہ تفتیش کار کے مطابق جنگی جرائم سے متاثرہ افراد کو بری طرح مایوس کیا گیا۔”میں اس کے لیے قابلِ نفرت کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔ اورمجھے ان خاندانوں کے ساتھ ہمدردی ہے کیونکہ انھیں انصاف نہیں ملا۔ آپ بطور برطانوی شہری اپنا سر اٹھا کر کیسے جی سکتے ہیں؟‘

پینوراما نے ان جنگی جرائم کے متعدد کیسز کے شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا ہے۔ آئی ایچ اے ٹی کی جانب سے تحقیق کیے جانے والا ایک کیس سنہ 2003 میں عراق کے شہربصرہ کا ہے جہاں گشت کرتے ایک برطانوی فوجی نے ایک عراقی پولیس اہلکار کو ہلاک کیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

eighteen − 3 =

Contact Us