غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکہ نے ایران کے وزیر اطلاعات جواد آذری پر پابندیاں عائد کر دیں۔امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے وزیر اطلاعات پر پابندی انٹرنیٹ سنسر شپ کے باعث لگائی گئی ہے۔
ؤاضح رہے کہ ایران میں گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے اور مختلف شہروں میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ جن میں 100 سے زائد افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ان مظاہروں کے دوران ایرانی وزیر اطلاعات کی جانب سے انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے تحت جواد آذری کی امریکہ میں جائیداد اور اکاؤنٹ منجمد کر دیئے گئے ہیں اور امریکیوں کو ایرانی وزیر اطلاعات سے کسی قسم کی لین دین رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن نے پابندیوں کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر اطلاعات نے مظاہروں کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ سنسرشپ استعمال کی۔
دوسری جانب امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی وزیر اطلاعات جواد آذری نے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کا شکار میں پہلا فرد نہیں ہوں بہرحال انٹرنیٹ تک رسائی کی وکالت جاری رکھوں گا۔
