ناروے حکومت نے قرآن پاک کی بےحرمتی کے واقعات روکنےکا حکم دیا ہے۔ ناورے پولیس چیف اود ریدار کا کہنا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی نفرت انگیز تقریر سے متعلق کریمنل کوڈ کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے اور دوبارہ بےحرمتی ہوئی توپولیس اسے روکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہرکسی کو اتنا ہی بولنا چاہے جتنے سے قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔ قوانین کی خلاف ورزی ہوگی توپولیس مداخلت کرے گی ۔ ایسے واقعات سے انتقامی کارروائیوں کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق پولیس احکامات کی خلاف ورزی پرکرسچن سینڈ میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یادرہے کہ گزشتہ دنوں ایک اسلام مخالف تنظیم سیان سے تعلق رکھنے والے شخص نے ناروے کے شہرکرسٹیان سینڈ کے پر رونق علاقے میں پہلے ایک مجمع لگایا اور پھر لوگوں کے سامنے قرآن کریم کو نذر آتش کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ قرآن کریم کو آتشزدگی سے بچانے کے لیے ایک نوجوان الیاس تیزی سے آگے بڑھا اور اسلام مخالف شخص کو قرآن پاک کی بے حرمتی سے روکا جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے اس کی پذیرائی کی جارہی ہے اور اسے ہیرو قرار دیا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ناروے میں ہونے والے توہین قرآن کے واقعے پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔
