عالمی معیشت میں بہتر پوزیشن کے حصول کے لیے سعودی عرب سیاحت کو پیٹرول کا نعم البدل بنانے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک طرف آثار قدیمہ کا احیا کیا جارہا ہے تو دوسری جانب تاریخی مقامات تک آنے جانے اور وہاں رہنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنےکی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سیاحت کے فروغ کے لیے ترغیبات بھی پیش کی جارہی ہیں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے ایک تعارفی سیاحتی فلم ریلیز کی گئی ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ سعودی عرب کے سیاحتی مقامات دنیا سے کیوں مختلف اور اہم ہیں اور انھیں دیکھنے کے لیے لوگوں کو سعودی عرب کی سیر و سیاحت کا پروگرام بنانا چاہیے۔
فلم کے ہدایت کار ایحاب الشرنوبی کا تعلق مصر سے ہے جو اپنی اس اچھوتی اور منفرد کوشش پربے حد خوش ہیں۔
تیس سیکنڈز دورانیے کی اس فلم میں سمندر، پہاڑوں اور ان کے غاروں، ریگستان، برفباری، وادیوں اور میدانی علاقوں کے دلکش مناظر پیش کیے گئے ہیں۔ یہ فلم جاپان سے لے کر چین اور روس تک اور پھر امریکہ و یورپ تک دنیا کے پندرہ ممالک میں دکھائی جا رہی ہے ۔ یہ فلم 17 تصاویر اور مناظر پر مشتمل ہے۔
فلم کےہدایت کار نے کہا ہے کہ یہ فلم پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے۔ یہ سیاحوں اور سعودی عرب کے سیاحتی مقامات کو ایک دوسرے سے فطری شکل میں جوڑتے ہوئے بتا رہی ہے کہ سعودی عرب رنگا رنگ مناظر سے آراستہ ملک ہے۔
