سوڈان کی عبوری حکومت کے سربراہ وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے جمعرات کے روز امریکہ کے تاریخی دورے کے اختتام پر کہا کہ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے سوڈان کا نام نکالے جانے کے حوالے سے “پیش رفت” ہوئی ہے۔واضح رہے کہ حمدوک 1985 کے بعد واشنگٹن کا دورہ کرنے والے پہلے سوڈانی سربراہ ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ ، وزارت خزانہ اور کانگرس کے سینئر ذمے داران سے ملاقاتوں کے بعد حمدوک نے اٹلانٹک کونسل ریسرچ سینٹر کے زیر ًانتظام ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ “بات چیت میں اصل توجہ یقینا سوڈان کا نام دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست سے ہٹانے پر مرکوز تھی اوراس معاملے نے بہت سے دیگرمعاملات کے حل کی راہ میں رکاوٹ ڈال رکھی تھی تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والی بات چیت بہتر طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے”۔
امریکہ نے حمدوک کے واشنگٹن کے دورے کے دوران بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ 23 برس بعد پہلی مرتبہ سوڈان میں اپنا سفیر مقرر کرے گا۔امریکہ نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں اور کارروائیوں کو تبدیل کرنے کی غرض سے سوڈانی عبوری وزیراعظم حمدوک کے اقدامات کوبھی سراہا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور 1989 میں اقتدار سنبھالنے والی عمر البشیر حکومت کے درمیان تعلقات پر کشیدگی چھانے کی وجہ سوڈانی حکومت کا شدت پسندانہ رجحان اختیار کرنا اور کچھ عرصے کے لیے القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کی میزبانی کرنا تھا۔
کانگرس میں ہونے والی بات چیت میں امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے سوڈان کی نئی حکومت کو سپورٹ کرنے کی تائید کی اور 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔جبکہ وزیراعظم حمدوک کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے مذکورہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ جلد کسی نتیجے تک پہنچا جائے گی
