Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

سوڈان جلد ہی دہشت گردی کی امریکی بلیک لسٹ سے نکل جائے گا ۔ حمدوک

سوڈان کی عبوری حکومت کے سربراہ وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے جمعرات کے روز امریکہ کے تاریخی دورے کے اختتام پر کہا کہ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے سوڈان کا نام نکالے جانے کے حوالے سے “پیش رفت” ہوئی ہے۔واضح رہے کہ حمدوک 1985 کے بعد واشنگٹن کا دورہ کرنے والے پہلے سوڈانی سربراہ ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ ، وزارت خزانہ اور کانگرس کے سینئر ذمے داران سے ملاقاتوں کے بعد حمدوک نے اٹلانٹک کونسل ریسرچ سینٹر کے زیر ًانتظام ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ “بات چیت میں اصل توجہ یقینا سوڈان کا نام دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست سے ہٹانے پر مرکوز تھی اوراس معاملے نے بہت سے دیگرمعاملات کے حل کی راہ میں رکاوٹ ڈال رکھی تھی تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران امریکہ کے ساتھ شروع ہونے والی بات چیت بہتر طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے”۔

امریکہ نے حمدوک کے واشنگٹن کے دورے کے دوران بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ 23 برس بعد پہلی مرتبہ سوڈان میں اپنا سفیر مقرر کرے گا۔امریکہ نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں اور کارروائیوں کو تبدیل کرنے کی غرض سے سوڈانی عبوری وزیراعظم حمدوک کے اقدامات کوبھی سراہا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور 1989 میں اقتدار سنبھالنے والی عمر البشیر حکومت کے درمیان تعلقات پر کشیدگی چھانے کی وجہ سوڈانی حکومت کا شدت پسندانہ رجحان اختیار کرنا اور کچھ عرصے کے لیے القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کی میزبانی کرنا تھا۔

کانگرس میں ہونے والی بات چیت میں امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے سوڈان کی نئی حکومت کو سپورٹ کرنے کی تائید کی اور 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔جبکہ وزیراعظم حمدوک کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے مذکورہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے اور امید ہے کہ جلد کسی نتیجے تک پہنچا جائے گی

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

five × 3 =

Contact Us