Shadow
سرخیاں
بحرانی صورتحال: مغربی رہنما اپنے عوام سے مزید قربانیاں طلب کر رہے ہیں۔ایران جنگ ‘امریکی سلطنت کا خاتمہ’ ہے – ٹکر کارلسنبرطانوی شاہی بحریہ میں نشے اور جنسی زیادتیوں کے واقعات کا انکشاف، ترجمان کا تبصرے سے انکار، تحقیقات کی یقین دہانیتیونسی شہری رضا بن صالح الیزیدی کسی مقدمے کے بغیر 24 برس بعد گوانتانوموبے جیل سے آزادمغربی طرز کی ترقی اور لبرل نظریے نے دنیا کو افراتفری، جنگوں اور بےامنی کے سوا کچھ نہیں دیا، رواں سال دنیا سے اس نظریے کا خاتمہ ہو جائے گا: ہنگری وزیراعظمامریکی جامعات میں صیہونی مظالم کے خلاف مظاہروں میں تیزی، سینکڑوں طلبہ، طالبات و پروفیسران جیل میں بندپولینڈ: یوکرینی گندم کی درآمد پر کسانوں کا احتجاج، سرحد بند کر دیخود کشی کے لیے آن لائن سہولت، بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث، صرف برطانیہ میں 130 افراد کی موت، چشم کشا انکشافاتپوپ فرانسس کی یک صنف سماج کے نظریہ پر سخت تنقید، دور جدید کا بدترین نظریہ قرار دے دیاصدر ایردوعان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں رنگ برنگے بینروں پر اعتراض، ہم جنس پرستی سے مشابہہ قرار دے دیا، معاملہ سیکرٹری جنرل کے سامنے اٹھانے کا عندیا

سعودی’آرامکو’ تنصیبات پر حملوں کا ہدف عالمی معیشت کو نشانہ بنانا تھا ۔ امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن

امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل سعودی عرب کی پٹرولیم کمپنی ‘آرامکو’ کی تنصیبات پرایران کی طرف سے کیے گئے حملوں کا ہدف عالمی معیشت کو تباہ کرنا تھا۔

عرب خبررساں ادارے کے مطابق ہفتے کے روز ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی عرب میں تعینات کی گئی امریکی فوج صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے ضروری شرائط پوری کردیں تو اس پرعاید کی گئی تمام اقتصادی پابندیاں اٹھا دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پرحملوں میں ایران کے سوا اور کوئی ملوث نہیں۔ امریکہ ان حملوں میں تہران کی تردید کے باوجود ایران کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں تیل کی تینصیبات پرحملوں کے لیے منصوبہ ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے تیار کیا گیا اور اس پرعمل درآمد کی منظوری سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے دی گئی تھی۔

جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے ترجمان علی رضا میر یوسفی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ایران ملوث نہیں ہے۔ ایران نے حملوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ نہ ہی اس طرح کے آپریشن پر تبادلہ خیال کے لیے سینیر سیکیورٹی حکام کی میٹنگ ہوئی تھی اور نہ ہی آیت اللہ علی خامنہ ای نے کسی بھی حملے کا حکم دیا تھا۔

دوست و احباب کو تجویز کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

three + 5 =

Contact Us