امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل سعودی عرب کی پٹرولیم کمپنی ‘آرامکو’ کی تنصیبات پرایران کی طرف سے کیے گئے حملوں کا ہدف عالمی معیشت کو تباہ کرنا تھا۔
عرب خبررساں ادارے کے مطابق ہفتے کے روز ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی عرب میں تعینات کی گئی امریکی فوج صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے ضروری شرائط پوری کردیں تو اس پرعاید کی گئی تمام اقتصادی پابندیاں اٹھا دی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پرحملوں میں ایران کے سوا اور کوئی ملوث نہیں۔ امریکہ ان حملوں میں تہران کی تردید کے باوجود ایران کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب میں تیل کی تینصیبات پرحملوں کے لیے منصوبہ ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے تیار کیا گیا اور اس پرعمل درآمد کی منظوری سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے دی گئی تھی۔
جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے ترجمان علی رضا میر یوسفی نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ایران ملوث نہیں ہے۔ ایران نے حملوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ نہ ہی اس طرح کے آپریشن پر تبادلہ خیال کے لیے سینیر سیکیورٹی حکام کی میٹنگ ہوئی تھی اور نہ ہی آیت اللہ علی خامنہ ای نے کسی بھی حملے کا حکم دیا تھا۔
